حدیث نمبر: 3326
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ الْمَدَنِيُّ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْبِطِّيخِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تر کھجور تربوز کے ساتھ ملا کر کھایا کرتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأطعمة / حدیث: 3326
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4792 ، ومصباح الزجاجة : 1146 ) ( صحیح ) » ( سند میں یعقوب بن ولید ضعیف راوی ہے ، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 57- 98 مختصر الشمائل المحدیہ : 170 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ککڑی اور تازہ کھجور کو ملا کر کھانے کا بیان۔`
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تر کھجور تربوز کے ساتھ ملا کر کھایا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3326]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے اس حدیث کا ذکر کرکے فرمایا ہے: (وَالْمُرَادُبِهِ الْأَخْضَر)
اس سے بطیخ اخضر یعنی تربوز مراد ہے۔ (زادالمعاد فصل فی ذکر شیئ من الأدویة والأغذية المفردة التى جاءت على لسانه صلى الله عليه وسلم)
بطيخ تربوز کو بھی کہتے ہیں اور خربوزے کو بھی۔
مسند احمد میں بطیخ کی جگہ خریز (خربوزہ)
کا لفظ ہے۔ (مسند احمد: 3/ 142، 143)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3326 سے ماخوذ ہے۔