سنن ابن ماجه
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الْقِثَّاءِ وَالرُّطَبِ يُجْمَعَانِ باب: ککڑی اور تازہ کھجور کو ملا کر کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3324
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " كَانَتْ أُمِّي تُعَالِجُنِي لِلسُّمْنَةِ تُرِيدُ أَنْ تُدْخِلَنِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا اسْتَقَامَ لَهَا ذَلِكَ ، حَتَّى أَكَلْتُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ فَسَمِنْتُ كَأَحْسَنِ سِمْنَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` میری ماں میرے موٹا ہونے کا علاج کرتی تھیں اور چاہتی تھیں کہ وہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کر سکیں ، لیکن کوئی تدبیر بن نہیں پڑی ، یہاں تک کہ میں نے ککڑی کھجور کے ساتھ ملا کر کھائی ، تو میں اچھی طرح موٹی ہو گئی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ ککڑی کھجور کے ساتھ بدن کو موٹا کرتی ہے، اور مزیدار بھی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ککڑی اور تازہ کھجور کو ملا کر کھانے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میری ماں میرے موٹا ہونے کا علاج کرتی تھیں اور چاہتی تھیں کہ وہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کر سکیں، لیکن کوئی تدبیر بن نہیں پڑی، یہاں تک کہ میں نے ککڑی کھجور کے ساتھ ملا کر کھائی، تو میں اچھی طرح موٹی ہو گئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3324]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میری ماں میرے موٹا ہونے کا علاج کرتی تھیں اور چاہتی تھیں کہ وہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کر سکیں، لیکن کوئی تدبیر بن نہیں پڑی، یہاں تک کہ میں نے ککڑی کھجور کے ساتھ ملا کر کھائی، تو میں اچھی طرح موٹی ہو گئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3324]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
قثاء ککڑی (پنجابی میں: ت)
کو بھی کہتے ہیں اور کھیرے کوبھی۔
محمد فواد عبدالباقی نےبھی اس کے دونوں معنی: خیار (کھیرا)
اور عجور (ککڑی)
ذکر کیے ہیں۔ دیکھیے: حاشہ (صحيح مسلم، الأشربة، باب أكل القثاء بالرطب، حديث: 2043)
علامہ وحید الزمان خان او رمولانا عبد الحکیم خاں اختر شاہ جہان پوری دونوں نے اس حدیث میں ککڑی مراد لی ہے۔
(2)
حضرت عائشہ ؓ رخصتی سے پہلے بہت دبلی تھیں اور ان کی والدہ کی خواہش تھی کہ ان کا قد کاٹھ اس قدر ہو جائے کہ نبی اکرم ﷺ کوبہتر معلوم ہوں۔
(3)
خاوند کی خدمت کے لیے بیوی کو اپنی صحت کا خیال رکھنا اچھی بات ہے۔
(4)
طب مشرق کے اصولوں کے مطابق ککڑی سرد تاثیر رکھتی ہے اور کھجور گرم۔
دونوں کو ملا کر کھانے سے ان کی تاثیر معتدل ہو جاتی ہے جس سے نقصان کا اندیشہ نہیں رہتا۔
فوائد و مسائل:
(1)
قثاء ککڑی (پنجابی میں: ت)
کو بھی کہتے ہیں اور کھیرے کوبھی۔
محمد فواد عبدالباقی نےبھی اس کے دونوں معنی: خیار (کھیرا)
اور عجور (ککڑی)
ذکر کیے ہیں۔ دیکھیے: حاشہ (صحيح مسلم، الأشربة، باب أكل القثاء بالرطب، حديث: 2043)
علامہ وحید الزمان خان او رمولانا عبد الحکیم خاں اختر شاہ جہان پوری دونوں نے اس حدیث میں ککڑی مراد لی ہے۔
(2)
حضرت عائشہ ؓ رخصتی سے پہلے بہت دبلی تھیں اور ان کی والدہ کی خواہش تھی کہ ان کا قد کاٹھ اس قدر ہو جائے کہ نبی اکرم ﷺ کوبہتر معلوم ہوں۔
(3)
خاوند کی خدمت کے لیے بیوی کو اپنی صحت کا خیال رکھنا اچھی بات ہے۔
(4)
طب مشرق کے اصولوں کے مطابق ککڑی سرد تاثیر رکھتی ہے اور کھجور گرم۔
دونوں کو ملا کر کھانے سے ان کی تاثیر معتدل ہو جاتی ہے جس سے نقصان کا اندیشہ نہیں رہتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3324 سے ماخوذ ہے۔