سنن ابن ماجه
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الأَكْلِ فِي الْمَسْجِدِ باب: مسجد میں کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3300
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ ، يَقُولُ : " كُنَّا نَأْكُلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِي الْمَسْجِدِ , الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں روٹی اور گوشت کھایا کرتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مسجد کے اندر کھانے میں کچھ حرج نہیں خصوصاً مسافروں کے لئے اور جن لوگوں کے گھر نہیں ہیں،لیکن یہ ضرور ہے کہ مسجد کو آلودہ، اور گندہ، اور غلیظ نہ کریں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مسجد میں کھانے کا بیان۔`
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں روٹی اور گوشت کھایا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3300]
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں روٹی اور گوشت کھایا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3300]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد میں کھانا پینا جائز ہے لیکن اسے عادت نہیں بنانا چاہیے۔
(2)
مسجد میں کھاناکھاتے وقت مسجد کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔
کھانے کی چیز فرش، چٹائی اور قالین وغیرہ پر نہ گرنے دی جائے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد میں کھانا پینا جائز ہے لیکن اسے عادت نہیں بنانا چاہیے۔
(2)
مسجد میں کھاناکھاتے وقت مسجد کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔
کھانے کی چیز فرش، چٹائی اور قالین وغیرہ پر نہ گرنے دی جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3300 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3311 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بھنے ہوئے گوشت کا بیان۔`
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بھنا ہوا گوشت کھایا، پھر ہم نے اپنے ہاتھ کنکریوں سے پونچھ لیے، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور ہم نے (پھر سے) وضو نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3311]
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بھنا ہوا گوشت کھایا، پھر ہم نے اپنے ہاتھ کنکریوں سے پونچھ لیے، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور ہم نے (پھر سے) وضو نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3311]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد میں کھانا کھانا جائز ہے۔
(2)
بھنا ہوا گوشت کھانا درست ہے۔
(3)
اللہ کی نعمتوں کے استعمال سے پرہیز کا نام زہد نہیں بلکہ حرام سے اجتناب اور دنیا کے لالچ سے بچنا زہد ہے۔
(4)
آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 488، 493)
فوائد و مسائل:
(1)
مسجد میں کھانا کھانا جائز ہے۔
(2)
بھنا ہوا گوشت کھانا درست ہے۔
(3)
اللہ کی نعمتوں کے استعمال سے پرہیز کا نام زہد نہیں بلکہ حرام سے اجتناب اور دنیا کے لالچ سے بچنا زہد ہے۔
(4)
آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ دیکھیے: (سنن ابن ماجة، حدیث: 488، 493)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3311 سے ماخوذ ہے۔