حدیث نمبر: 3293
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَكَلَ عَلَى خِوَانٍ حَتَّى مَاتَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دستر خوان پر کھاتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہو گیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأطعمة / حدیث: 3293
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأطعمة 8 ( 5385 ) ، الرقاق 16 ( 6450 ) ، سنن الترمذی/الأطعمة 1 ( 1888 ) ، الزہد 38 ( 2363 ) ، ( تحفة الأشراف : 1174 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/130 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5415 | سنن ترمذي: 1788 | سنن ابن ماجه: 3292

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5415 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5415. سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے نہ تو میز پر رکھ کر کھانا کھایا اور نہ چھوٹی چھوٹی پیالوں کو کھانے میں استعال کیا اور نہ آپ کے لیے باریک چپاتی ہی پکائی گئی۔ (راوی حدیث کہتے ہیں کہ) میں نے قتادہ سے پوچھا کہ پھر وہ کس چیز پر رکھ کر کھانا کھاتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ چمڑے کے دستر خوان پر کھانا رکھ کر اسے تناول فرماتے تھے[صحيح بخاري، حديث نمبر:5415]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیوی معیشت کا پتا چلتا ہے کہ آپ کی خوراک بالکل سادہ تھی۔
اس میں اہل دنیا کی طرح تکلف نہیں ہوا کرتا تھا۔
لیکن ہمارے ہاں ایسی پرتکلف دعوتوں کا رواج چل نکلا ہے جن میں فضول خرچی کے علاوہ شہرت اور دکھلاوے کے جذبات نمایاں ہوتے ہیں۔w
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5415 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3292 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´میز اور دستر خوان پر کھانے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوان (میز) پر کبھی نہیں کھایا، اور نہ «سکرجہ» (چھوٹی طشتری) ۱؎ میں کھایا۔ قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: دستر خوان پر۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3292]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مولانا عبدالغنی رحمہ اللہ سنن ابن ماجہ کے حاشہ انجاح الحاجہ میں خوان کے بارے میں لکھتے ہیں: اس پر رکھ کر کھانا دولت مندوں اور متکبروں کی عادت ہے تاکہ انہیں کھانا کھاتے وقت جھکنے یا سر جھکانے کی ضرورت نہ پڑے۔
اس لیے اس کا ترجمہ چھوٹی میز یا تپائی وغیرہ کیا جا سکتا ہے۔

(2)
سکرجه چھوٹی پلیٹ یا تھالی اور رکابی وغیرہ کو کہتے ہیں جس میں چٹنی وغیرہ رکھی جاتی ہے۔
یہ لذت پسندی اور عیش پرستی کامظہر ہے۔
رسول ا للہ ﷺ کا کھانا سادہ اور زود ہضم ہوتا تھا اس لیے چٹنی وغیرہ کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔

(3)
سفرہ (دستر خوان)
سے مراد وہ کپڑے یا چمڑے کا ٹکڑا ہے جسے بچھا کر اس پر کھانا رکھا جاتا ہے۔
اہل عرب اب بھی میز کرسی استعمال کرنے کے بجائے زمین پر دستر خوان بچھا کر کھانا کھانے کے عادی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3292 سے ماخوذ ہے۔