سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : النَّهْيِ عَنِ الْخَلاَءِ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ باب: راستہ میں پیشاب و پاخانہ کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 329
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، قَالَ ، قَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالتَّعْرِيسَ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ ، وَالصَّلَاةَ عَلَيْهَا ، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ ، وَقَضَاءَ الْحَاجَةِ عَلَيْهَا فَإِنَّهَا مِنَ الْمَلَاعِنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیچ راستے میں رات کو پڑاؤ ڈالنے اور نماز پڑھنے سے بچو ، اس لیے کہ وہ سانپوں اور درندوں کے باربار آنے اور جانے کا راستہ ہے ، اور وہاں قضائے حاجت سے بھی بچو اس لیے کہ یہ لعنت کے اسباب میں سے ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´راستہ میں پیشاب و پاخانہ کرنا منع ہے۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیچ راستے میں رات کو پڑاؤ ڈالنے اور نماز پڑھنے سے بچو، اس لیے کہ وہ سانپوں اور درندوں کے باربار آنے اور جانے کا راستہ ہے، اور وہاں قضائے حاجت سے بھی بچو اس لیے کہ یہ لعنت کے اسباب میں سے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 329]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیچ راستے میں رات کو پڑاؤ ڈالنے اور نماز پڑھنے سے بچو، اس لیے کہ وہ سانپوں اور درندوں کے باربار آنے اور جانے کا راستہ ہے، اور وہاں قضائے حاجت سے بھی بچو اس لیے کہ یہ لعنت کے اسباب میں سے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 329]
اردو حاشہ: (1)
رات کو جب راستے پر انسانوں کی آمدرفت رک جاتی ہےتو موذی جانور اور حشرات اپنے ٹھکانوں سے نکل آتے ہیں۔
اور ان راستوں سے گزرتے ہیں، اس لیے اگر کوئی مسافر لیٹ کرسورہا ہوتوممکن ہے کوئی سانپ بچھووغیرہ اسے نقصان پہنچائے۔
(2)
اس حدیث سے بھی راستے میں قضائے حاجت کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔
(3)
بعض محققین نے (وَالصَّلَاةُ عَلَيهَا)
کے الفاظ کے علاوہ اسے حسن قراردیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة، حدیث: 2433)
رات کو جب راستے پر انسانوں کی آمدرفت رک جاتی ہےتو موذی جانور اور حشرات اپنے ٹھکانوں سے نکل آتے ہیں۔
اور ان راستوں سے گزرتے ہیں، اس لیے اگر کوئی مسافر لیٹ کرسورہا ہوتوممکن ہے کوئی سانپ بچھووغیرہ اسے نقصان پہنچائے۔
(2)
اس حدیث سے بھی راستے میں قضائے حاجت کرنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔
(3)
بعض محققین نے (وَالصَّلَاةُ عَلَيهَا)
کے الفاظ کے علاوہ اسے حسن قراردیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة، حدیث: 2433)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 329 سے ماخوذ ہے۔