سنن ابن ماجه
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : مَا يُقَالُ إِذَا فَرَغَ مِنَ الطَّعَامِ باب: جب کھانے سے فارغ ہو تو کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3285
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ أَكَلَ طَعَامًا ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کھانا کھا کر یہ دعا پڑھے : «الحمد لله الذي أطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه» ” حمد و ثناء اور تعریف ہے اس اللہ کی جس نے مجھے یہ کھلایا ، اور بغیر میری کسی طاقت اور زور کے اسے مجھے عطا کیا “ تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جب کھانے سے فارغ ہو تو کیا دعا پڑھے؟`
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کھانا کھا کر یہ دعا پڑھے: «الحمد لله الذي أطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه» ” حمد و ثناء اور تعریف ہے اس اللہ کی جس نے مجھے یہ کھلایا، اور بغیر میری کسی طاقت اور زور کے اسے مجھے عطا کیا “ تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3285]
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کھانا کھا کر یہ دعا پڑھے: «الحمد لله الذي أطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه» ” حمد و ثناء اور تعریف ہے اس اللہ کی جس نے مجھے یہ کھلایا، اور بغیر میری کسی طاقت اور زور کے اسے مجھے عطا کیا “ تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3285]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کی نعمت پر اس کا شکر ادا کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔
(2)
شکر گناہوں کی معافی کا باعث ہے۔
(3)
رزق کے حصول کےلیے اگرچہ ایک حد تک انسان بھی کوشش اورتدبیر سے کام لیتا ہے تاہم اس کوشش کو کامیاب کرنا اورتدبیر سجھانا بھی اللہ ہی کا فضل ہے اور اسی کی توفیق سے ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کی نعمت پر اس کا شکر ادا کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔
(2)
شکر گناہوں کی معافی کا باعث ہے۔
(3)
رزق کے حصول کےلیے اگرچہ ایک حد تک انسان بھی کوشش اورتدبیر سے کام لیتا ہے تاہم اس کوشش کو کامیاب کرنا اورتدبیر سجھانا بھی اللہ ہی کا فضل ہے اور اسی کی توفیق سے ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3285 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3458 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جب کھانا کھا چکے تو کیا پڑھے؟`
معاذ بن انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کھانا کھایا پھر کھانے سے فارغ ہو کر کہا: «الحمد لله الذي أطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه» ” تمام تعریفیں ہیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں یہ کھانا کھلایا اور اسے ہمیں عطا کیا، میری طرف سے محنت مشقت اور جدوجہد اور قوت و طاقت کے استعمال کے بغیر، تو اس کے اگلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3458]
معاذ بن انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کھانا کھایا پھر کھانے سے فارغ ہو کر کہا: «الحمد لله الذي أطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه» ” تمام تعریفیں ہیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں یہ کھانا کھلایا اور اسے ہمیں عطا کیا، میری طرف سے محنت مشقت اور جدوجہد اور قوت و طاقت کے استعمال کے بغیر، تو اس کے اگلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3458]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تمام تعریفیں ہیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں یہ کھانا کھلایا اور اسے ہمیں عطا کیا، میری طرف سے محنت مشقت اور جد وجہد اور قوت وطاقت کے استعمال کے بغیر، تو اس کے اگلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
نوٹ:
(سنن ابی داؤد میں: وَمَا تَأَخَّرَ آخر میں آیا ہے، جو صحیح نہیں ہے)
وضاحت:
1؎:
تمام تعریفیں ہیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں یہ کھانا کھلایا اور اسے ہمیں عطا کیا، میری طرف سے محنت مشقت اور جد وجہد اور قوت وطاقت کے استعمال کے بغیر، تو اس کے اگلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
نوٹ:
(سنن ابی داؤد میں: وَمَا تَأَخَّرَ آخر میں آیا ہے، جو صحیح نہیں ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3458 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4023 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نیا لباس پہنے تو کون سی دعا پڑھے؟`
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کھانا کھایا پھر یہ دعا پڑھی «الحمد لله الذي أطعمني هذا الطعام ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة» ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیر میری طاقت و قوت کے مجھے یہ عنایت فرمایا ” تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔“ نیز فرمایا: ” اور جس نے (نیا کپڑا) پہنا پھر یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي كساني هذا الثوب ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة» ” تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور میری طاقت و قوت کے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4023]
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے کھانا کھایا پھر یہ دعا پڑھی «الحمد لله الذي أطعمني هذا الطعام ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة» ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیر میری طاقت و قوت کے مجھے یہ عنایت فرمایا ” تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔“ نیز فرمایا: ” اور جس نے (نیا کپڑا) پہنا پھر یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي كساني هذا الثوب ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة» ” تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور میری طاقت و قوت کے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4023]
فوائد ومسائل:
1۔
یہ حدیث حسن درجے کی ہے۔
مگر اس میں پچھلے گناہ کے الفاظ نہیں ہیں۔
2: کھانا کھا کر لباس پہنتے ہوئے مذکور بالا یا دوسری مسنون دعائیں پڑھنا انتہائی مستحب عمل ہے، اس سے یہ نعمتیں انسان کے لئے بابرکت ہوجاتی ہیں اور بندہ اس کے شر سے محفوظ رہتاہے، بلکہ مزید انعامات ربانی کا مستحق قرارپاتا ہے۔
کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’اگر تم شکر کروگے تو یقینا میں تمہیں زیادہ دوں گا۔
‘‘
1۔
یہ حدیث حسن درجے کی ہے۔
مگر اس میں پچھلے گناہ کے الفاظ نہیں ہیں۔
2: کھانا کھا کر لباس پہنتے ہوئے مذکور بالا یا دوسری مسنون دعائیں پڑھنا انتہائی مستحب عمل ہے، اس سے یہ نعمتیں انسان کے لئے بابرکت ہوجاتی ہیں اور بندہ اس کے شر سے محفوظ رہتاہے، بلکہ مزید انعامات ربانی کا مستحق قرارپاتا ہے۔
کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’اگر تم شکر کروگے تو یقینا میں تمہیں زیادہ دوں گا۔
‘‘
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4023 سے ماخوذ ہے۔