سنن ابن ماجه
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : مَا يُقَالُ إِذَا فَرَغَ مِنَ الطَّعَامِ باب: جب کھانے سے فارغ ہو تو کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3283
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ رِيَاحِ بْنِ عَبِيدَةَ ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھا لیتے تو یہ دعا پڑھتے : «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» یعنی ” حمد و ثناء ہے اس اللہ کی جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ بڑی نعمت ہے کہ دین حق کی توفیق بخشی، اگر دنیا بہت ہو اور دین تباہ ہو تو بڑی مصیبت کی بات ہے، چند روز میں یہاں سے جانا ہے، ساری دنیا پڑی رہ جا ئے گی ہم چل دیں گے، ہمارے ساتھ جو جائے گا، وہ ہمارا دین ہے، یا اللہ! تو اپنے فضل سے سچے دین پر ہمیشہ قائم رکھ اور خاتمہ بالخیر فرما، «آمین یارب العالمین» ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جب کھانے سے فارغ ہو تو کیا دعا پڑھے؟`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھا لیتے تو یہ دعا پڑھتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» یعنی ” حمد و ثناء ہے اس اللہ کی جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3283]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھا لیتے تو یہ دعا پڑھتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» یعنی ” حمد و ثناء ہے اس اللہ کی جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3283]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے تاہم صحیح احادیث میں دیگر دعائیں مذکور ہیں ان میں سے کوئی بھی دعا مانگی جا سکتی ہے۔
ان میں سے دو دعائیں درج ذیل روایات میں مروی ہیں۔
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے تاہم صحیح احادیث میں دیگر دعائیں مذکور ہیں ان میں سے کوئی بھی دعا مانگی جا سکتی ہے۔
ان میں سے دو دعائیں درج ذیل روایات میں مروی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3283 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3457 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جب کھانا کھا چکے تو کیا پڑھے؟`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھا پی چکتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» ” سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3457]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھا پی چکتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» ” سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3457]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔
نوٹ:
(سند میں ’’حجاج بن ارطاۃ‘‘ متکلم فیہ راوی ہیں، اور ’’ابن اخی سعید‘‘ مجہول ہیں)
وضاحت:
1؎:
سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔
نوٹ:
(سند میں ’’حجاج بن ارطاۃ‘‘ متکلم فیہ راوی ہیں، اور ’’ابن اخی سعید‘‘ مجہول ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3457 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3850 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کھانے کے بعد کیا دعا پڑھے؟`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3850]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3850]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت ضعیف ہے۔
لیکن صحیح احادیث میں دیگر دعایئں مذکورہ ہیں۔
ان میں سے کوئی بھی دعا مانگی جا سکتی ہے۔
فائدہ: یہ روایت ضعیف ہے۔
لیکن صحیح احادیث میں دیگر دعایئں مذکورہ ہیں۔
ان میں سے کوئی بھی دعا مانگی جا سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3850 سے ماخوذ ہے۔