سنن ابن ماجه
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : اللُّقْمَةِ إِذَا سَقَطَتْ باب: ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا هُوَ يَتَغَدَّى , إِذْ سَقَطَتْ مِنْهُ لُقْمَةٌ , فَتَنَاوَلَهَا فَأَمَاطَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ أَذًى فَأَكَلَهَا ، فَتَغَامَزَ بِهِ الدَّهَاقِينُ ، فَقِيلَ : أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ ، إِنَّ هَؤُلَاءِ الدَّهَاقِينَ يَتَغَامَزُونَ مِنْ أَخْذِكَ اللُّقْمَةَ وَبَيْنَ يَدَيْكَ هَذَا الطَّعَامُ ، قَالَ : إِنِّي لَمْ أَكُنْ لِأَدَعَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِهَذِهِ الْأَعَاجِمِ ، " إِنَّا كُنَّا نَأْمُرُ أَحَدُنَا , إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَتُهُ , أَنْ يَأْخُذَهَا فَيُمِيطَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ أَذًى وَيَأْكُلَهَا ، وَلَا يَدَعَهَا لِلشَّيْطَانِ " .
´معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` دوپہر کا کھانا کھانے کے دوران ایک لقمہ ان سے گر گیا ، تو انہوں نے اسے اٹھایا ، اور اس میں لگے کچرے کو صاف کیا ، پھر اسے کھا لیا ( یہ دیکھ کر ) عجمی کسان ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارے کرنے لگے ، لوگوں نے کہا : اللہ امیر کا بھلا کرے ، آپ کے سامنے یہ کھانا موجود ہوتے ہوئے اس لقمے کو آپ کے اٹھانے پر یہ کسان لوگ آنکھوں سے باہم اشارے کر رہے ہیں ، وہ بولے : ان عجمیوں کی ( چہ مہ گوئیوں اور اشارے بازیوں کی ) وجہ سے میں اس بات کو ترک کرنے والا نہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، ہم میں سے جب کسی کا لقمہ گر جاتا تو ہم اس سے کہتے کہ وہ اسے اٹھا لے اور اس میں لگی گندگی کو صاف کر لے پھر اسے کھا لے ، اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑ دے ا؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دوپہر کا کھانا کھانے کے دوران ایک لقمہ ان سے گر گیا، تو انہوں نے اسے اٹھایا، اور اس میں لگے کچرے کو صاف کیا، پھر اسے کھا لیا (یہ دیکھ کر) عجمی کسان ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارے کرنے لگے، لوگوں نے کہا: اللہ امیر کا بھلا کرے، آپ کے سامنے یہ کھانا موجود ہوتے ہوئے اس لقمے کو آپ کے اٹھانے پر یہ کسان لوگ آنکھوں سے باہم اشارے کر رہے ہیں، وہ بولے: ان عجمیوں کی (چہ مہ گوئیوں اور اشارے بازیوں کی) وجہ سے میں اس بات کو ترک کرنے والا نہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، ہم میں سے جب کسی کا لقمہ گر ج۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3278]
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے اس طرف اشارہ کیا ہے اور مزید کہا ہے کہ درج ذیل روایت اس کی شاہد ہے لہٰذا مذکورہ روایت ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل حجت اور قابل عمل ہے۔
علاوہ ازیں صحیح مسلم میں حضرت جابر کی حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جب تم میں کسی سےلقمہ گر پڑے تو اسے چاہیے کہ اسے جو گردوغبار لگا ہو اسے دور کرے پھر اس (لقمے)
کو کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے .....، (صحيح مسلم، الأشربة، باب استحباب لعق الأصابع والقصعة وأكل اللقمة الساقطة بعد مسح ما يصيبها من أذى.......، حديث: 2033)
حضرت انس کی حدیث میں بھی رسول اللہ ﷺ کا ارشاد انھی الفاظ میں روایت کیا گیا ہے۔ (مسلم۔
حوالہ مذکورہ)
(2)
اگر ہاتھ سے گرا ہوا لقمہ اٹھایا نہ جائے تو شیطان اسے کھا لیتا ہے یا شیطان کو اس سے کھانے کوملتا ہے۔