حدیث نمبر: 3275
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ الْيَحْصَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا ، وَدَعُوا ذُرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے اطراف سے کھاؤ ، اور اس کی چوٹی یعنی درمیان کو چھوڑ دو کہ اس میں برکت ہوتی ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأطعمة / حدیث: 3275
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الأطعمة 18 ( 3773 ) ، ( تحفة الأشراف : 5199 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3773

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ثرید کے اونچے حصہ سے کھانا منع ہے۔`
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے اطراف سے کھاؤ، اور اس کی چوٹی یعنی درمیان کو چھوڑ دو کہ اس میں برکت ہوتی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3275]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
چوٹی سےمراد برتن کے درمیان کا کھانا ہے جو برتن بھرا ہوا ہونے کی صورت میں کناروں کی نسبت کچھ بلند ہوتا ہے۔

(2)
جب ایک برتن میں کھانے والے اپنے اپنے سامنے سے کھائیں تواس حدیث پر بھی عمل ہو جاتا ہے کیونکہ درمیان کا کھانا کناروں سے کھائے جانے کے بعد کھایا جاتا ہے۔

(3)
حدیث نبوی پر عمل کرنے سے رزق میں برکت حاصل ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3275 سے ماخوذ ہے۔