سنن ابن ماجه
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الأَكْلِ مِمَّا يَلِيكَ باب: (برتن میں اور دستر خوان پر) اپنے قریب سے کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي السَّوِيَّةِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِكْرَاشٍ ، عَنْ أَبِيهِ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَفْنَةٍ كَثِيرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَدَكِ , فَأَقْبَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا ، فَخَبَطْتُ يَدِي فِي نَوَاحِيهَا ، فَقَالَ : " يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ ، فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ " ، ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانٌ مِنَ الرُّطَبِ ، فَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّبَقِ ، وَقَالَ : " يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ ، فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ " .
´عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک لگن لایا گیا جس میں بہت سا ثرید اور روغن تھا ، ہم سب اس میں سے کھانے لگے ، میں اپنا ہاتھ پیالے میں ہر طرف پھرا رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عکراش ! ایک جگہ سے کھاؤ ، اس لیے کہ یہ پورا ایک ہی کھانا ہے “ ، پھر ایک طبق لایا گیا جس میں مختلف اقسام کی تازہ کھجوریں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ طبق میں چاروں طرف گھومنے لگا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عکراش ! جہاں سے جی چاہے کھاؤ ، اس لیے کہ اس میں کئی طرح کی کھجوریں ہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک لگن لایا گیا جس میں بہت سا ثرید اور روغن تھا، ہم سب اس میں سے کھانے لگے، میں اپنا ہاتھ پیالے میں ہر طرف پھرا رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عکراش! ایک جگہ سے کھاؤ، اس لیے کہ یہ پورا ایک ہی کھانا ہے “، پھر ایک طبق لایا گیا جس میں مختلف اقسام کی تازہ کھجوریں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ طبق میں چاروں طرف گھومنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عکراش! جہاں سے جی چاہے کھاؤ، اس لیے کہ اس میں کئی طرح کی کھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3274]
فوائد و مسائل:
مذکورہ باب میں دونوں روایات ضعیف ہیں تاہم صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت عمر بن ابوسلمہ سے فرمایا: بچے! اللہ کا نام لو۔
دائیں ہاتھ سے کھاؤ اوراپنے قریب سے کھاؤ۔ (صحيح البخارى، الأطعمة، حديث: 5372، وصحيح مسلم، الأشربة، حديث: 2022)
لہٰذا جب برتن میں ایک قسم کا کھانا ہو تو ہر ایک کو اپنے سامنے ہی سے کھانا چاہیے البتہ اگر مختلف قسم کی چیزیں ہوں تواپنی پسند کی چیز دوسری طرف سے بھی لی جاسکتی ہے۔
واللہ أعلم مزید دیکھیے حدیث: 3267کے فوائد ومسائل۔
عکراش بن ذؤیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنو مرہ بن عبید نے اپنی زکاۃ کا مال دے کر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، میں آپ کے پاس مدینہ آیا تو آپ کو مہاجرین اور انصار کے بیچ بیٹھا پایا، پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر لے گئے اور پوچھا: ” کھانے کے لیے کچھ ہے؟ “ چنانچہ ایک پیالہ لایا گیا جس میں زیادہ ثرید (شوربا میں ترکی ہوئی روٹی) اور بوٹیاں تھیں، ہم اسے کھانے کے لیے متوجہ ہوئے، میں پیالہ کے کناروں پر اپنا ہاتھ مارنے لگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے سے کھانے لگے، پھر آپ نے اپنے بائ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1848]
نوٹ:
(سند میں العلاء بن فضل ضعیف راوی ہیں)