حدیث نمبر: 3271
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْبَرَّاءُ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ عَاصِمٍ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ ، فَقَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ فَلَحِسَهَا ، اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام عاصم بیان کرتی ہیں کہ` ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام نبیشہ رضی اللہ عنہ آئے ، اس وقت ہم ایک بڑے پیالے میں کھانا کھا رہے تھے ، انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” جو شخص کسی بڑے پیالے میں کھاتا ہے پھر چاٹ کر صاف کرتا ہے ، اس کے لیے یہ پیالہ استغفار کرتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأطعمة / حدیث: 3271
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, [3271۔3272] إسناده ضعيف, ترمذي (1804), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأطعمة 11 ( 1804 ) ، ( تحفة الأشراف : 11588 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/76 ) ، سنن الدارمی/الأطمة 7 ( 2070 ) ( ضعیف ) » ( سند میں ام عاصم مجہول الحال ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1804 | سنن ابن ماجه: 3272

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1804 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´گرے ہوئے لقمہ کا بیان۔`
ام عاصم کہتی ہیں کہ ہمارے پاس نبیشہ الخیر آئے، ہم لوگ ایک پیالے میں کھانا کھا رہے تھے، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پیالے میں کھائے پھر اسے چاٹے تو پیالہ اس کے لیے استغفار کرتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1804]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں معلی بن راشد اورام عاصم دونوں لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1804 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3272 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کھانے کے بعد پلیٹ صاف کرنے کا بیان۔`
معلی بن راشد ابوالیمان بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میری دادی نے ہذیل کے نبیشہ الخیر نامی شخص سے نقل کیا کہ ایک بار جب ہم اپنے ایک بڑے پیالے میں کھا رہے تھے نبیشہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص کسی پیالے میں کھائے، اور اسے چاٹ کر صاف کر لے تو یہ پیالہ اس کے لیے استغفار کرے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3272]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ باب کی دونوں روایتیں سندً ضعیف ہیں تاہم پیالے اور پلیٹ وغیرہ کو انگلیوں سے صاف کرنے کا ذکر صحیح مسلم کی روایت میں موجود ہے۔
حضرت انس بن مالک ر سےمروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم پلیٹ کو انگلی سے صاف کر لیا کریں۔ (صحیح مسلم، الأشربة، باب استحباب لعق الأصابع.....، حديث: 2034)
نیز صحیح مسلم کی اسی روایت میں پلیٹ کو انگلیوں سے صاف کرنے کا سبب وہی بیان ہوا ہے جوگزشتہ باب میں انگلیوں چاٹنے کا بیان ہوا تھا۔
خاص طور پر آج کل کے ماحول میں جس طرح بعض لوگ برتن میں زیادہ کھانا لے لیتے ہیں اور تھوڑا سا کھا کر باقی ضائع کردیتے ہیں۔
یہ انتہائی بری عادت ہے۔
اس سے کھانے کی بےقدری ہوتی ہے۔
اور بلاضرورت ضائع کرنا تبذیر میں شامل ہے جس کے مرتکب کو قرآن نے ’’شیطان کا بھائی‘‘ کہا ہے اسلامی اخلاق کا تقاضا ہے کہ کھانا کھاتے وقت پلیٹ میں صرف ضرورت کے مطابق لیا جائے اور اس میں بچایا نہ جائے۔
اور جو پکا ہوا کھانا بچ جائے وہ پھینکنے کے بجائے ضرورت مندوں، غریبوں اور ہمسایوں میں تقسیم کر دیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3272 سے ماخوذ ہے۔