سنن ابن ماجه
كتاب الأطعمة— کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
بَابُ : الأَكْلِ بِالْيَمِينِ باب: دائیں ہاتھ سے کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3266
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لِيَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ ، وَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ ، وَلْيَأْخُذْ بِيَمِينِهِ ، وَلْيُعْطِ بِيَمِينِهِ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ ، وَيُعْطِي بِشِمَالِهِ ، وَيَأْخُذُ بِشِمَالِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھائے ، دائیں ہاتھ سے پیئے ، دائیں ہاتھ سے لے ، دائیں ہاتھ سے دے ، اس لیے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے ، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے ، بائیں ہاتھ سے دیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دائیں ہاتھ سے کھانے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھائے، دائیں ہاتھ سے پیئے، دائیں ہاتھ سے لے، دائیں ہاتھ سے دے، اس لیے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے، بائیں ہاتھ سے دیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3266]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھائے، دائیں ہاتھ سے پیئے، دائیں ہاتھ سے لے، دائیں ہاتھ سے دے، اس لیے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے، بائیں ہاتھ سے دیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3266]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
وہ تمام کام جوعرف میں اچھے سمجھے جاتے ہیں یا طبعاً ناگوار نہیں ان میں دایاں ہاتھ استعمال کرنا چاہیے۔
دوسرے کاموں میں بایاں ہاتھ استعمال کیا جائے۔
(2)
احادیث میں بہت سے کاموں کےبارے میں دائیں جانب کو اہمیت دینے کا ذکر موجود ہے مثلاً: کھانا، پینا، لینا، دینا، وضو، غسل، کنگھی کرنا، کپڑا پہننا، جوتا پہننا، سر کےبال کٹوانا یامنڈوانا، لکھنا، مسجد میں داخل ہونا، بیت الخلاء سے باہر آنا وغیرہ۔
اور بہت سے دوسرے کاموں میں بائیں جانب کا ذکر ہے مثلاً: استنجاء کرنا، بیت الخلاء میں داخل ہونا، مسجد سےباہر آنا، لباس یا جوتا اتارنا وغیرہ۔
(3)
جوکام شیطان کو پسند ہیں مومن کو ان سے ا جتناب کرنا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
وہ تمام کام جوعرف میں اچھے سمجھے جاتے ہیں یا طبعاً ناگوار نہیں ان میں دایاں ہاتھ استعمال کرنا چاہیے۔
دوسرے کاموں میں بایاں ہاتھ استعمال کیا جائے۔
(2)
احادیث میں بہت سے کاموں کےبارے میں دائیں جانب کو اہمیت دینے کا ذکر موجود ہے مثلاً: کھانا، پینا، لینا، دینا، وضو، غسل، کنگھی کرنا، کپڑا پہننا، جوتا پہننا، سر کےبال کٹوانا یامنڈوانا، لکھنا، مسجد میں داخل ہونا، بیت الخلاء سے باہر آنا وغیرہ۔
اور بہت سے دوسرے کاموں میں بائیں جانب کا ذکر ہے مثلاً: استنجاء کرنا، بیت الخلاء میں داخل ہونا، مسجد سےباہر آنا، لباس یا جوتا اتارنا وغیرہ۔
(3)
جوکام شیطان کو پسند ہیں مومن کو ان سے ا جتناب کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3266 سے ماخوذ ہے۔