حدیث نمبر: 3261
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا صَاعِدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا آتِيكَ بِوَضُوءٍ ؟ قَالَ : " أُرِيدُ الصَّلَاةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے تو کھانا لایا گیا ، ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں آپ کے لیے وضو کا پانی نہ لاؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں نماز ادا کرنا چاہتا ہوں “ ؟ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: جو وضو ضروری ہو، معلوم ہوا کہ کھانے سے پہلے وضو ضروری نہیں صرف ہاتھ دھونا ہی کافی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأطعمة / حدیث: 3261
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 14229 ، ومصباح الزجاجة : 1120 ) ( حسن صحیح ) » ( سند میں صاعد بن عبید مقبول ہیں ، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کھانے کے وقت وضو کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے تو کھانا لایا گیا، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے وضو کا پانی نہ لاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نماز ادا کرنا چاہتا ہوں ؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3261]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کھانا کھانے کے لیے نماز والا وضو کرنا ثابت نہیں۔

(2)
شریعت نے جو پابندی نہیں لگائی صفائی یا تقوی وغیرہ کے نام پر وہ پابندی لگانا درست نہیں۔

(3)
نماز کے لیے با وضوء ہونا ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3261 سے ماخوذ ہے۔