حدیث نمبر: 3260
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُكْثِرَ اللَّهُ خَيْرَ بَيْتِهِ ، فَلْيَتَوَضَّأْ إِذَا حَضَرَ غَدَاؤُهُ وَإِذَا رُفِعَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو یہ پسند کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں خیر و برکت زیادہ کرے ، اسے چاہیئے کہ وضو کرے جب دوپہر کا کھانا آ جائے ، اور جب اسے اٹھا کر واپس لے جایا جائے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأطعمة / حدیث: 3260
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, كثير بن سليم: ضعيف, والسند ضعفه البوصيري, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
تخریج حدیث « تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 1445 ، ومصباح الزجاجة : 1119 ) ( ضعیف ) » ( سند میں جبارہ بن المغلس اور کثیر بن سلیم دونوں ضعیف ہیں ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 117 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کھانے کے وقت وضو کرنے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو یہ پسند کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں خیر و برکت زیادہ کرے، اسے چاہیئے کہ وضو کرے جب دوپہر کا کھانا آ جائے، اور جب اسے اٹھا کر واپس لے جایا جائے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3260]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس حدیث میں وضو سے مراد ہاتھ منہ دھونا ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے اس لیےہاتھ اگر صاف ہوں تو دھوئے بغیر بھی کھانا کھانا جائز ہے۔
اسی طرح کھانے کےبعد کا مسئلہ ہے اگر صفائی کی ضرورت ہو تو ہاتھ ضرور دھونے چاہییں ورنہ دھونا شرعاً ضروری نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3260 سے ماخوذ ہے۔