حدیث نمبر: 3259
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ إِنْ رَضِيَهُ أَكَلَهُ ، وَإِلَّا تَرَكَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں لگایا ، اگر آپ کو کھانا اچھا لگتا تو اسے کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأطعمة / حدیث: 3259
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المناقب 23 ( 3564 ) ، الأطعمة 21 ( 5409 ) ، صحیح مسلم/الأشربة 35 ( 2064 ) ، سنن ابی داود/الأطعمة 14 ( 3763 ) ، سنن الترمذی/البروالصلة 84 ( 2031 ) ، ( تحفة الأشراف : 13403 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/474 ، 479 ، 481 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کھانے میں عیب نکالنا منع ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں لگایا، اگر آپ کو کھانا اچھا لگتا تو اسے کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3259]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر پکانے والے سے کھانا پکانے میں کوئی کمی رہ جائے تو برداشت کرنی چاہیے۔
معمولی بات پر آپے سے باہر ہو جانا اخلاق کے منافی ہے۔

(2)
بعض اوقات کوئی انسان کو پسند نہیں ہوتا تب طبیعت پر جبر کرکے کھانا ضروری نہیں اور نہ پیش کرنے والے ہی پر ناراض ہونا چاہیے کہ یہ کھانا کیوں پکایا گیا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3259 سے ماخوذ ہے۔