حدیث نمبر: 3252
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , كَانَ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " أَفْشُوا السَّلَامَ ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ ، وَكُونُوا إِخْوَانًا ، كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سلام کو پھیلاؤ ، کھانا کھلاؤ ، اور بھائی بھائی ہو جاؤ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأطعمة / حدیث: 3252
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 7670 ، ومصباح الزجاجة : 1117 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/156 ) ( صحیح ) ( تراجع الألبانی : رقم : 587 ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کھانا کھلانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلام کو پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ، اور بھائی بھائی ہو جاؤ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3252]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
حسن خلق اور حقوق العباد کی ادائیگی سے آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں معاشرے میں امن وامان قائم رہتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3252 سے ماخوذ ہے۔