حدیث نمبر: 3245
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ ، عَنْ أَخِيهِ خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْتُكَ لِأَسْأَلَكَ عَنْ أَحْنَاشِ الْأَرْضِ ، مَا تَقُولُ فِي الضَّبِّ ؟ ، قَالَ : " لَا آكُلُهُ ، وَلَا أُحَرِّمُهُ " ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنِّي آكُلُ مِمَّا لَمْ تُحَرِّمْ ، وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ ، وَرَأَيْتُ خَلْقًا رَابَنِي " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِي الْأَرْنَبِ ؟ ، قَالَ : " لَا آكُلُهُ ، وَلَا أُحَرِّمُهُ " ، قُلْتُ : فَإِنِّي آكُلُ مِمَّا لَمْ تُحَرِّمْ ، وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " نُبِّئْتُ أَنَّهَا تَدْمَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´خزیمہ بن جزء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا کہ آپ سے زمین کے کیڑوں کے متعلق سوال کروں ، آپ ضب ( گوہ ) کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ تو میں اسے کھاتا ہوں ، اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں “ میں نے عرض کیا : میں تو صرف ان چیزوں کو کھاؤں گا جسے آپ نے حرام نہیں کیا ہے ، اور آپ ( ضب ) کیوں نہیں کھاتے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قوموں میں ایک گروہ گم ہو گیا تھا اور میں نے اس کی خلقت کچھ ایسی دیکھی کہ مجھے شک ہوا “ ( یعنی شاید یہ ضب- گوہ- وہی گمشدہ گروہ ہو ) میں نے عرض کیا : آپ خرگوش کے سلسلے میں کیا فرماتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں “ ، میں نے عرض کیا : میں تو ان چیزوں میں سے کھاؤں گا جسے آپ حرام نہ کریں ، اور آپ خرگوش کھانا کیوں نہیں پسند کرتے ؟ اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے خبر دی گئی ہے کہ اسے حیض آتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيد / حدیث: 3245
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (3235), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3533 ، ومصباح الزجاجة : 1114 ) ( ضعیف ) » ( سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں ، اور روایت عنعنہ سے کی ہے ، اور عبدالکریم ضعیف ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1792 | سنن ابن ماجه: 3235 | سنن ابن ماجه: 3237

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1792 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´لکڑبگھا کھانے کا بیان۔`
خزیمہ بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکڑبگھا کھانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: بھلا کوئی لکڑبگھا کھاتا ہے؟ میں نے آپ سے بھیڑیئے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: بھلا کوئی نیک آدمی بھیڑیا کھاتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1792]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں اسماعیل بن مسلم مکی اور عبد الکریم بن ابی المخارق دونوں ضعیف راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1792 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3235 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بھیڑئیے اور لومڑی کا بیان۔`
خزیمہ بن جزء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کی خدمت میں زمین کے کیڑوں کے متعلق سوال کرنے آیا ہوں، آپ لومڑی کے سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لومڑی کون کھاتا ہے ؟ پھر میں نے عرض کیا: آپ بھیڑئیے کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہیں کوئی آدمی جس میں خیر ہو بھیڑیا کھاتا ہے ؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3235]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے تاہم دیگر دلائل کی رو سے لومڑی اور بھیڑیا گوشت خور جانور ہونے کی وجہ سے حرام ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3235 سے ماخوذ ہے۔