حدیث نمبر: 3231
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَائِبَةَ مَوْلَاةِ الْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فَرَأَتْ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعًا ، فَقَالَتْ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا ؟ ، قَالَتْ : نَقْتُلُ بِهِ هَذِهِ الْأَوْزَاغَ ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا : " أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُلْقِيَ فِي النَّارِ ، لَمْ تَكُنْ فِي الْأَرْضِ دَابَّةٌ إِلَّا أَطْفَأَتِ النَّارَ غَيْرَ الْوَزَغِ ، فَإِنَّهَا كَانَتْ تَنْفُخُ عَلَيْهِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´فاکہ بن مغیرہ کی لونڈی سائبہ کہتی ہیں کہ` وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو انہوں نے آپ کے گھر ایک برچھا رکھا ہوا دیکھا ، تو عرض کیا : ام المؤمنین ! آپ اس برچھے سے کیا کرتی ہیں ؟ کہا : ہم اس سے ان چھپکلیوں کو مارتے ہیں ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو روئے زمین کے تمام جانوروں نے آگ بجھائی سوائے چھپکلی کے کہ یہ اسے ( مزید ) پھونک مارتی تھی ، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دیا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ چھپکلی کا قتل مذہبی عداوت کی وجہ سے ہے، چونکہ وہ ابراہیم علیہ السلام کی دشمن تھی، تو سارے مسلمانوں کو اس کا دشمن ہونا چاہئے، اور بعضوں نے کہا: شیطان چھپکلی کی شکل بن کر آگ پھونکتا تھا، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شکل کو برا جانا، اور اس کے ہلاک کرنے کا حکم دیا، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دشمن کے برے کام کرنے سے کبھی اس کی ساری قوم مطعون ہو جاتی ہے، اور وہ مکروہ سمجھی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيد / حدیث: 3231
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سائبة مولاة الفاكه مجھولة الحال،لم يوثقھا من المتقدمين غير ابن حبان و مع ذلك صحح البوصيري حديثھا (!), و لحديثھا شاھد ضعيف عند النسائي (2834) و روي البخاري (3359) عن أم شريك رضي اللّٰه عنھا أن رسول اللّٰه ﷺ أمر بقتل الوزغ و قال: ((كان ينفخ علي إبراھيم عليه السلام۔)) وھذا يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 492
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17843 ، ومصباح الزجاجة : 1111 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/83 ، 109 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´چھپکلی مارنے کا حکم۔`
فاکہ بن مغیرہ کی لونڈی سائبہ کہتی ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو انہوں نے آپ کے گھر ایک برچھا رکھا ہوا دیکھا، تو عرض کیا: ام المؤمنین! آپ اس برچھے سے کیا کرتی ہیں؟ کہا: ہم اس سے ان چھپکلیوں کو مارتے ہیں، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو روئے زمین کے تمام جانوروں نے آگ بجھائی سوائے چھپکلی کے کہ یہ اسے (مزید) پھونک مارتی تھی، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3231]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
چھپکلی کو مار دینا چاہیے۔

(2)
جس چھپکلی نے حضرت ابراہیم کےلیے جلائی ہوئی آگ میں پھونکیں ماریں وہ تو صدیوں پہلے مر گئی لیکن اس سے یہ معلوم ہو گیا کہ یہ جانور طبعاً شریر ہے۔
جس طرح گدھا اپنی طبیعت کے لحاظ سے شیطان سے مناسبت رکھتا ہے۔

(3)
چھپکلی نقصان دہ جانور ہے اور ایسے جانور کو قتل کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس سے واقعی نقصان پہنچے جیسے سانپ اور بچھو وغیرہ کو قتل کیا جاتا ہے خواہ انہوں نے کسی کو نہ کاٹا ہو اور نہ ڈنگ مارا ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3231 سے ماخوذ ہے۔