حدیث نمبر: 3223
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الصُّرَدِ ، وَالضِّفْدَعِ ، وَالنَّمْلَةِ ، وَالْهُدْهُدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لٹورا ( ایک چھوٹا سا پرندہ ) ، مینڈک ، چیونٹی اور ہُد ہُد کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيد / حدیث: 3223
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ضعفه البوصيري لضعف إبراهيم بن الفضل:متروك, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 492
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 12944 ، ومصباح الزجاجة : 1110 ) ( صحیح ) » ( ابراہیم بن الفضل ضعیف ہیں ، لیکن حدیث آگے کی ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جن جانوروں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لٹورا (ایک چھوٹا سا پرندہ)، مینڈک، چیونٹی اور ہُد ہُد کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3223]
اردو حاشہ:
فوائد و  مسائل: (1)
ممولا ایک چھوٹا سا پرندہ ہے جس کا سربڑا پیٹ سفید اور پیٹھ سبز ہوتی ہے۔
چھوٹے پرندوں اور حشرات وغیرہ کا شکار کرتا ہے۔ (حاشہ ابن ماجہ از محمد فواد عبدالباقی بحوالہ المنجد)
ابن اثیر  نے فرمایا: یہ بڑے سر اور بڑی چونچ والا ایک پرندہ ہے۔
اس کے پرآدھے سفید اور آدھے سیاہ ہوتے ہیں۔ (النہایة۔
مادہ مرد)

(2)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بناپر صحیح قرار دیا ہے لہٰذا مذکورہ روایت قابل حجت ہے تاہم قتل نہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان چیزوں کوخوراک کے طور پر استعمال کرنا منع ہے۔
واللہ اعلم۔
مزید تفصیل کےلیے دیکھیے: (الإرواء: 8/ 143)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3223 سے ماخوذ ہے۔