سنن ابن ماجه
كتاب الصيد— کتاب: شکار کے احکام و مسائل
بَابُ : صَيْدِ الْحِيتَانِ وَالْجَرَادِ باب: مچھلی اور ٹڈی کا شکار۔
حدیث نمبر: 3222
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ ابْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ ، أَوْ ضَرْبٌ مِنْ جَرَادٍ ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِأَسْوَاطِنَا وَنِعَالِنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُوهُ فَإِنَّهُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے ، تو ہمارے سامنے ٹڈیوں کا ایک گروہ آیا ، یا ایک قسم کی ٹڈیاں آئیں ، تو ہم انہیں اپنے کوڑوں اور جوتوں سے مارنے لگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں کھاؤ یہ دریا کا شکار ہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 850 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´محرم کے لیے سمندر کے شکار کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے تھے کہ ہمارے سامنے ٹڈی کا ایک دل آ گیا، ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے کھاؤ، کیونکہ یہ سمندر کا شکار ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 850]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے تھے کہ ہمارے سامنے ٹڈی کا ایک دل آ گیا، ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے کھاؤ، کیونکہ یہ سمندر کا شکار ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 850]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ابو المہزم ضعیف راوی ہے)
نوٹ:
(سند میں ابو المہزم ضعیف راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 850 سے ماخوذ ہے۔