حدیث نمبر: 3216
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ ، فَمَا قُطِعَ مِنْهَا فَهُوَ مَيْتَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زندہ جانور سے جو حصہ کاٹ لیا جائے تو کاٹا گیا حصہ مردار کے حکم میں ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الصيد / حدیث: 3216
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 6737 ، ومصباح الزجاجة : 1105 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´زندہ جانور سے کاٹ لیے جانے والے حصے کی حرمت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندہ جانور سے جو حصہ کاٹ لیا جائے تو کاٹا گیا حصہ مردار کے حکم میں ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3216]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
زندہ جانور سے اس کے جسم کا کوئی حصہ کاٹنا حرام ہے۔

(2)
اس طرح کاٹا ہوا گوشت حرام ہے اگرچہ تکبیر پڑھ کر ہی کاٹا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3216 سے ماخوذ ہے۔