سنن ابن ماجه
كتاب الصيد— کتاب: شکار کے احکام و مسائل
بَابُ : صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ وَالْكَلْبِ الأَسْوَدِ الْبَهِيمِ باب: مجوسی کے کتے اور خالص کالے کتے کے شکار کا حکم۔
حدیث نمبر: 3210
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَنِ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ، فَقَالَ : شَيْطَانٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خالص سیاہ کتے کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شیطان ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مجوسی کے کتے اور خالص کالے کتے کے شکار کا حکم۔`
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خالص سیاہ کتے کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ شیطان ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3210]
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خالص سیاہ کتے کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ شیطان ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3210]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس میں اشارہ ہے کہ ایسا کتا نہیں رکھنا چاہیے جس کا پورا جسم سیاہ ہو۔
ایسا کتا رکھنا منع ہے تو شکار کےلیے پالنا یا استعمال کرنا بھی منع ہو گا۔
واللہ اعلم
فوائد و مسائل:
اس میں اشارہ ہے کہ ایسا کتا نہیں رکھنا چاہیے جس کا پورا جسم سیاہ ہو۔
ایسا کتا رکھنا منع ہے تو شکار کےلیے پالنا یا استعمال کرنا بھی منع ہو گا۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3210 سے ماخوذ ہے۔