حدیث نمبر: 321
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ ، وَحَدَّثَنَاهُ عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ الدَّوْنَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَانِي أَنْ أَشْرَبَ قَائِمًا ، وَأَنْ أَبُولَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ " 27 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھڑے ہو کر پانی پینے سے ، اور قبلہ رو ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 321
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبد اللّٰه بن لھيعة مدلس،ضعيف بعد اختلاطه وعنعن, أبو الزبير عنعن و في السند إليھما نظر, و الحديث السابق (الأصل: 318) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3984 ، ومصباح الزجاجة : 129 ) ( صحیح ) » ( سند میں ابن لہیعہ مدلس راوی ہیں ، اور روایت عنعنہ کی ہے ، لیکن شواہد کی نباء پر یہ حدیث صحیح ہے ، ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود : 10 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھڑے ہو کر پانی پینے سے، اور قبلہ رو ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 321]
اردو حاشہ:
اس حدیث میں کھڑے ہوکر پانی پینے سے منع کیاگیا ہے۔
بعض علماء اس نہی کو تنزیہ پر محمول کرتے ہیں یعنی کھڑے ہوکر پانی پینا جائز تو ہےلیکن بہتر نہیں کیونکہ احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہوکربھی پانی پیا ہے۔
بعض دیگر علماء اسے جائز نہیں سمجھتے کیونکہ صحیح مسلم میں یہ ارشاد نبوی ہے: (لَا يَشْرِبَنَّ اَحَدٌ مِنْكُم قَاِئمًا فَمَنْ نَسِيَ فَالْيَسْتَقِي) (صحيح مسلم، الاشربة، باب في ا لشرب قائما، حديث: 2026)
 ’’تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہوکر (پانی وغیرہ نہ پیے)
اور جو بھول کر پی لے اسے چاہیے کہ قے کردے۔‘‘
 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جواز کو مجبوری کی حالت پر محمول کرنا چاہیے یعنی اگر بیٹھنے کے لیے مناسب جگہ نہ ہوتو کھڑے ہو کر پانی پی لے۔
ورنہ پرہیز کرے- واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 321 سے ماخوذ ہے۔