سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ باب: پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 320
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ، " نَهَى أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بِبَوْلٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے گواہی دی کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رو ہو کر پاخانہ اور پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رو ہو کر پاخانہ اور پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 320]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رو ہو کر پاخانہ اور پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 320]
اردو حاشہ:
گواہی دینے کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے پیشاب یا پاخانے کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا اس انداز کا مقصد محض تاکید ہے اور یہ اشارہ بھی ہے کہ انھوں نے یہ حدیث براہ راست آپﷺ سے سنی ہے کسی اور صحابی کے واسطے سے نہیں اس لیے وہ اس قدر یقین سے بیان کرتے ہیں جس طرح گواہی صرف چشم دید یقینی معاملے پر ہوسکتی ہے۔
گواہی دینے کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے پیشاب یا پاخانے کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا اس انداز کا مقصد محض تاکید ہے اور یہ اشارہ بھی ہے کہ انھوں نے یہ حدیث براہ راست آپﷺ سے سنی ہے کسی اور صحابی کے واسطے سے نہیں اس لیے وہ اس قدر یقین سے بیان کرتے ہیں جس طرح گواہی صرف چشم دید یقینی معاملے پر ہوسکتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 320 سے ماخوذ ہے۔