حدیث نمبر: 319
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى الثَّعْلَبِيِّينَ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ ، وَقَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِغَائِطٍ أَوْ بِبَوْلٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معقل بن ابومعقل اسدی رضی اللہ عنہ ( جن کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے ) کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیشاب اور پاخانے کے وقت دونوں قبلوں ( مسجد الحرام اور بیت المقدس ) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 319
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (10), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الطہارة 4 ( 10 ) ، ( تحفة الأشراف : 11463 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/210 ) ( ضعیف ) » ( حدیث کی سند میں مذکور راوی ''أبو زید'' مجہول ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 10

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 10 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا مکروہ ہے`
«. . . نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نستقبل القبلتين ببول او غائط . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب اور پاخانہ کے وقت دونوں قبلوں (بیت اللہ اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 10]
فوائد و مسائل
➊ یہ روایت ضعیف ہے، شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے ’’منکر‘‘ کہا ہے تاہم جن کے نزدیک صحیح ہے انہوں نے اس میں توجیہ کی ہے مثلاً علامہ خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حکم کی جو توجیہات ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ جو شخص مدینہ منورہ میں بیت اللہ یعنی خانہ کعبہ کی طرف منہ کرے گا وہ لازماً بیت المقدس کی طرف پشت کرے گا۔ دوسری توجیہ یہ ہو سکتی ہے کہ چونکہ بیت المقدس بھی مسلمانوں کا قبلہ رہا ہے اس لیے اس کا احترام بھی ضروری ہے اور یہ نہی تنزیہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 10 سے ماخوذ ہے۔