سنن ابن ماجه
كتاب الذبائح— کتاب: ذبیحہ کے احکام و مسائل
بَابُ : النَّهْيِ عَنْ صَبْرِ الْبَهَائِمِ وَعَنِ الْمُثْلَةِ باب: جانور کو باندھ کر نشانہ لگانے اور مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3188
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنَ الدَّوَابِّ صَبْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر تیر مارنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: جب جانور کو باندھ کر اس طرح سے مارنا منع ہوا تو انسان کو اس طرح سے مارنا بطریق اولیٰ حرام ہو گا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جانور کو باندھ کر نشانہ لگانے اور مثلہ کرنے سے ممانعت کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر تیر مارنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3188]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر تیر مارنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3188]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس کا مفہوم بھی مذکورہ بالا حدیث کے مطابق ہے۔
ذبح کرنے کے لیے اس کی ٹانگیں باندھنا تاکہ بے قابو نہ ہوجائے، اس ممانعت میں شامل نہیں۔
فوائد و مسائل:
اس کا مفہوم بھی مذکورہ بالا حدیث کے مطابق ہے۔
ذبح کرنے کے لیے اس کی ٹانگیں باندھنا تاکہ بے قابو نہ ہوجائے، اس ممانعت میں شامل نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3188 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1959 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے، حضرت عبداللہ بن جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما کی روایت بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5063]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور جانور کو باندھ کر نشانہ بنانا، اس کے لیے تکلیف اور اذیت کا باعث ہے، اس لیے آپ نے اس کو باندھ کر تختہ مشق بنانے سے منع فرمایا ہے اور یہ حرکت کرنے والے پر لعنت بھیجی ہے، کیونکہ جانور کو ذبح کرنے کا حکم ہے، اس طرح ہدف بنا کر اس کو پھینک دینا اس کا ضیاع ہے، اس طرح یہ دوہرا جرم ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1959 سے ماخوذ ہے۔