سنن ابن ماجه
كتاب الذبائح— کتاب: ذبیحہ کے احکام و مسائل
بَابُ : النَّهْيِ عَنْ ذَبْحِ ذَوَاتِ الدَّرِّ باب: دودھ والے جانور کو ذبح کرنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3181
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ وَلِعُمَرَ : " انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى الْوَاقِفِيِّ " ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا فِي الْقَمَرِ ، حَتَّى أَتَيْنَا الْحَائِطَ ، فَقَالَ : " مَرْحَبًا وَأَهْلًا " ، ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ ، ثُمَّ جَالَ فِي الْغَنَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ " ، أَوْ قَالَ : " ذَاتَ الدَّرِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” تم دونوں ہمیں واقفی کے پاس لے چلو ، تو ہم لوگ چاندنی رات میں چلے یہاں تک کہ باغ میں پہنچے تو اس نے ہمیں مرحبا و خوش آمدید کہا ، پھر چھری سنبھالی اور بکریوں میں گھوما آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دودھ والی “ یا فرمایا : ” تھن والی بکری سے اپنے آپ کو بچانا “ یعنی اسے ذبح نہ کرنا ۔