حدیث نمبر: 3179
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ عَطَاءٌ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِغُلَامٍ يَسْلُخُ شَاةً ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَنَحَّ حَتَّى أُرِيَكَ " ، فَأَدْخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ فَدَحَسَ بِهَا ، حَتَّى تَوَارَتْ إِلَى الْإِبِطِ ، وَقَالَ : يَا غُلَامُ ، " هَكَذَا فَاسْلُخْ " ، ثُمَّ مَضَى وَصَلَّى لِلنَّاسِ ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا جو بکری کی کھال اتار رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” الگ ہو جاؤ میں تمہیں بتاتا ہوں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک گوشت اور کھال کے بیچ داخل فرمایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک پہنچ کر چھپ گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے لڑکے ! اس طرح سے کھال اتارو “ ، پھر آپ وہاں سے چلے ، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیوں کہ بکری نجس نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کھال اتارنے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا جو بکری کی کھال اتار رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” الگ ہو جاؤ میں تمہیں بتاتا ہوں “، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک گوشت اور کھال کے بیچ داخل فرمایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک پہنچ کر چھپ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے لڑکے! اس طرح سے کھال اتارو “، پھر آپ وہاں سے چلے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3179]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا جو بکری کی کھال اتار رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” الگ ہو جاؤ میں تمہیں بتاتا ہوں “، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک گوشت اور کھال کے بیچ داخل فرمایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک پہنچ کر چھپ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے لڑکے! اس طرح سے کھال اتارو “، پھر آپ وہاں سے چلے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3179]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کوئی کام سکھانے کے لیے عملی نمونہ پیش کرنا بہترین طریقہ ہے۔
(2)
اگر کوئی نو آموز کسی کام کو اچھی طرح انجام نہ دے رہا ہو تو بزرگوں کو چاہیے کہ اسے ڈانٹنے جھڑکنے کے بجائے خود وہ کام کرکے دکھائیں اور مناسب رہنمائی کریں۔
(3)
کھال اتارنے یا گوشت اتارنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(4)
نماز کے لیے جاتے ہوئے راستے میں اگر چھوٹا موٹا کام کردیا جائے، جس سے نماز میں تاخیر نہ ہو کوئی حرج نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
کوئی کام سکھانے کے لیے عملی نمونہ پیش کرنا بہترین طریقہ ہے۔
(2)
اگر کوئی نو آموز کسی کام کو اچھی طرح انجام نہ دے رہا ہو تو بزرگوں کو چاہیے کہ اسے ڈانٹنے جھڑکنے کے بجائے خود وہ کام کرکے دکھائیں اور مناسب رہنمائی کریں۔
(3)
کھال اتارنے یا گوشت اتارنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
(4)
نماز کے لیے جاتے ہوئے راستے میں اگر چھوٹا موٹا کام کردیا جائے، جس سے نماز میں تاخیر نہ ہو کوئی حرج نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3179 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 185 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´انسان کو بہت زیادہ نفیس اور نازک مزاج بھی نہیں بن جانا چائیے`
«. . . أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِغُلَامٍ وَهُوَ يَسْلُخُ شَاةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَنَحَّ حَتَّى أُرِيَكَ . . .»
”. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا، وہ ایک بکری کی کھال اتار رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم ہٹ جاؤ، میں تمہیں (عملی طور پر کھال اتار کر) دکھاتا ہوں . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 185]
«. . . أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِغُلَامٍ وَهُوَ يَسْلُخُ شَاةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَنَحَّ حَتَّى أُرِيَكَ . . .»
”. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا، وہ ایک بکری کی کھال اتار رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم ہٹ جاؤ، میں تمہیں (عملی طور پر کھال اتار کر) دکھاتا ہوں . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 185]
فوائد و مسائل:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے ’’معلم“ بنا کر بھیجا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا ایک پہلو یہ بھی تھا، جو اوپر مذکور ہوا کہ کام عمدہ اور خوبصورت انداز میں سرانجام دیا جائے۔
➋ چربی کی چکناہٹ اور گوشت کی خاص مہک اور اس کا خون لگنے سے طہارت میں کوئی فرق نہیں آتا۔
➌ انسان کو بہت زیادہ نفیس اور نازک مزاج بھی نہیں بن جانا چائیے کہ اس قسم کے کاموں سے اہتمام غسل یا کپڑے تبدیل کرنا پڑیں۔ چاہیے کہ معمولات زندگی میں تکلفات کی بجائے سادگی کو اختیار کیا جائے۔
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے ’’معلم“ بنا کر بھیجا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا ایک پہلو یہ بھی تھا، جو اوپر مذکور ہوا کہ کام عمدہ اور خوبصورت انداز میں سرانجام دیا جائے۔
➋ چربی کی چکناہٹ اور گوشت کی خاص مہک اور اس کا خون لگنے سے طہارت میں کوئی فرق نہیں آتا۔
➌ انسان کو بہت زیادہ نفیس اور نازک مزاج بھی نہیں بن جانا چائیے کہ اس قسم کے کاموں سے اہتمام غسل یا کپڑے تبدیل کرنا پڑیں۔ چاہیے کہ معمولات زندگی میں تکلفات کی بجائے سادگی کو اختیار کیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 185 سے ماخوذ ہے۔