حدیث نمبر: 3176
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ حَاضِرَ بْنَ مُهَاجِرٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ " أَنَّ ذِئْبًا نَيَّبَ فِي شَاةٍ فَذَبَحُوهَا بِمَرْوَةٍ ، فَرَخَّصَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَكْلِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` بھیڑئیے نے ایک بکری میں دانت گاڑ دیئے ، تو لوگوں نے اس بکری کو پتھر سے ذبح کر ڈالا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دے دی ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الذبائح / حدیث: 3176
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن النسائی/الضحایا 17 ( 4405 ) ، 23 ( 4412 ) ، ( تحفة الأشراف : 3718 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/184 ) ( صحیح ) » ( سند میں حاضر بن مہاجر کو ابو حاتم نے مجہول کہا ہے ، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 4405 | سنن نسائي: 4412

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کس چیز سے ذبح کرنا جائز ہے؟`
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بھیڑئیے نے ایک بکری میں دانت گاڑ دیئے، تو لوگوں نے اس بکری کو پتھر سے ذبح کر ڈالا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دے دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3176]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
جو جانور درندے سے زندہ چھڑا لیا جائے اسے تکبیر کہہ کر ذبح کر لینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3176 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4405 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´دھاردار پتھر سے ذبح کرنا جائز ہے۔`
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بھیڑیئے نے ایک بکری کے جسم میں دانت گاڑ دیے لوگوں نے اسے پتھر سے ذبح کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دے دی۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4405]
اردو حاشہ: اگر کسی جانور کو درندہ کاٹ کھائے اور اس میں روح باقی ہو تو اسے ذبح کردیا جائے، وہ حلال ہو گا۔ ہاں اگر وہ ذبح کرنے سے پہلے بے جان ہوتو خواہ سارا خون نکل چکا ہو، وہ جانور حر ام ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4405 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4412 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جس جانور میں درندہ دانت گاڑ دے ہو اسے ذبح کرنے کا بیان۔`
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بھیڑیئے نے ایک بکری میں دانت گاڑ دئیے، لوگوں نے اسے دھاردار پتھر سے ذبح کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دی۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4412]
اردو حاشہ: دیکھیے حدیث نمبر4405۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4412 سے ماخوذ ہے۔