حدیث نمبر: 3171
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَجُرُّ شَاةً بِأُذُنِهَا ، فَقَالَ : " دَعْ أُذُنَهَا وَخُذْ بِسَالِفَتِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو ایک بکری کا کان پکڑے اسے گھسیٹ رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کا کان چھوڑ دو ، اور اس کی گردن کی طرف پکڑ لو ( تاکہ اسے تکلیف نہ ہو ) “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الذبائح / حدیث: 3171
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, قال أبو حاتم الرازي: ’’ ھذه أحاديث منكرة كأنھا موضوعة،وموسي(بن محمد بن إبراهيم التيمي): ضعيف الحديث جدًا و أبوه …… لم يسمع من جابر ولا أبي سعيد ‘‘ (علل الحديث 241/2 ح 2214), وانظر الحديث الآتي (3185), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4293 ، ومصباح الزجاجة : 1097 ) ( ضعیف جدا ) » ( سند میں موسیٰ بن محمد منکر الحدیث راوی ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جب جانور ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو ایک بکری کا کان پکڑے اسے گھسیٹ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا کان چھوڑ دو، اور اس کی گردن کی طرف پکڑ لو (تاکہ اسے تکلیف نہ ہو)۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3171]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت ضعیف ہے، تاہم جانوروں پر رحم کرنے کے احکام کے تحت اس کو بھی شامل کیا جا سکتا ہےکہ اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ لےجانے کے لیے ایسا طریقہ اختیار نہ کیا جائے جس سے اس کو اذیت ہو، مثلاً: بعض لوگ زندہ مرغیوں کو ٹانگوں سے پکڑ کر الٹا لٹکا لیتے ہیں، اسی طرح لے جانے میں انھیں تکلیف ہوتی ہے۔
ایک جانور کے سامنے دوسرا جانور ذبح کرنا بھی رحم کے منافی ہے۔
البتہ یہ احتیاط ممکن نہ ہو، وہاں کیا جاسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3171 سے ماخوذ ہے۔