سنن ابن ماجه
كتاب الذبائح— کتاب: ذبیحہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الْفَرَعَةِ وَالْعَتِيرَةِ باب: فرعہ اور عتیرہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3169
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا فَرَعَةَ وَلَا عَتِيرَةَ " ، قَالَ ابْن مَاجَةَ : هَذَا مِنْ فَرَائِدِ الْعَدَنِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ «فرعہ» ( واجب ) ہے اور نہ «عتیرہ» “ ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں : یہ حدیث محمد بن ابی عمر عدنی کے تفردات میں سے ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´فرعہ اور عتیرہ کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہ «فرعہ» (واجب) ہے اور نہ «عتیرہ» ۔“ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ابی عمر عدنی کے تفردات میں سے ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3169]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہ «فرعہ» (واجب) ہے اور نہ «عتیرہ» ۔“ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ابی عمر عدنی کے تفردات میں سے ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3169]
اردو حاشہ:
امام ابن ماجہ ؒ کے فرمان کا یہ مطلب ہے کہ صرف اس سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
باقی علماء اپنی اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
محمد بن ابو عمر عدنی ؒ امام ابن ماجہ کے استاد ہیں۔
امام ابن ماجہ ؒ کے فرمان کا یہ مطلب ہے کہ صرف اس سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
باقی علماء اپنی اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
محمد بن ابو عمر عدنی ؒ امام ابن ماجہ کے استاد ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3169 سے ماخوذ ہے۔