سنن ابن ماجه
كِتَابُ الْأَضَاحِي— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
بَابُ : الأَكْلِ مِنْ لُحُومِ الضَّحَايَا باب: قربانی کا گوشت کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3158
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مِنْ كُلِّ جَزُورٍ بِبَضْعَةٍ ، فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ ، فَأَكَلُوا مِنَ اللَّحْمِ وَحَسَوْا مِنَ الْمَرَقِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے ہر اونٹ کا ایک ٹکڑا منگایا ، پھر ان سب ٹکڑوں کو ایک ہانڈی میں پکانے کا حکم دیا ، تو وہ ایک ہانڈی میں رکھ کر پکایا گیا ، پھر سبھی لوگوں نے اس کا گوشت کھایا ، اور اس کا شوربہ پیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 815 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کتنے حج کئے؟`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین حج کئے، دو حج ہجرت سے پہلے اور ایک حج ہجرت کے بعد، اس کے ساتھ آپ نے عمرہ بھی کیا اور ترسٹھ اونٹ ہدی کے طور پر ساتھ لے گئے اور باقی اونٹ یمن سے علی لے کر آئے۔ ان میں ابوجہل کا ایک اونٹ تھا۔ اس کی ناک میں چاندی کا ایک حلقہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نحر کیا، پھر آپ نے ہر اونٹ میں سے ایک ایک ٹکڑا لے کر اسے پکانے کا حکم دیا، تو پکایا گیا اور آپ نے اس کا شوربہ پیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 815]
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین حج کئے، دو حج ہجرت سے پہلے اور ایک حج ہجرت کے بعد، اس کے ساتھ آپ نے عمرہ بھی کیا اور ترسٹھ اونٹ ہدی کے طور پر ساتھ لے گئے اور باقی اونٹ یمن سے علی لے کر آئے۔ ان میں ابوجہل کا ایک اونٹ تھا۔ اس کی ناک میں چاندی کا ایک حلقہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نحر کیا، پھر آپ نے ہر اونٹ میں سے ایک ایک ٹکڑا لے کر اسے پکانے کا حکم دیا، تو پکایا گیا اور آپ نے اس کا شوربہ پیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 815]
اردو حاشہ:
1؎:
ابن ماجہ کے یہاں ’’عبدالرحمن بن داود‘‘ نے ’’زید بن حباب‘‘ کی متابعت کی ہے، نیز ان کے یہاں اس کی ابن عباس رضی اللہ عنہا کی روایت شاہد بھی موجود ہے۔
1؎:
ابن ماجہ کے یہاں ’’عبدالرحمن بن داود‘‘ نے ’’زید بن حباب‘‘ کی متابعت کی ہے، نیز ان کے یہاں اس کی ابن عباس رضی اللہ عنہا کی روایت شاہد بھی موجود ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 815 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2800 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´حاجی کا ہدی کو اپنے ساتھ لے جانے کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ حج میں ہدی لے کر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2800]
جابر رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ حج میں ہدی لے کر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2800]
اردو حاشہ: (1) قربانی کے جانور جو حرم کو لے جائے جائیں، انھیں قلادہ ڈالا جائے۔ اونٹ ہوں تو انھیں اشعار بھی کیا جائے اور انھیں ہانک کر لے جایا جائے۔ سواری والے جانور پیچھے پیچھے چلیں۔ اس میں قربانی کے جانوروں کا احترام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے شعائر کا اظہار ہے، نیز وہ اپنی مرضی کے مطابق چلیں گے۔ انھیں پیچھے پیچھے بھاگنا نہیں پڑے گا۔
(2) باب کے یہ معنیٰ بھی ہو سکتے ہیں: ”قربانی کے جانور ساتھ لے کر جانا“ تو پھر باب کا مقصد یہ ہوگا کہ قربانی کا جانور ساتھ لے جانا افضل ہے بجائے وہاں جا کر خریدنے کے کیونکہ اس میں مشقت بھی زیادہ ہے اور شعائر اللہ کا اظہار بھی ہے۔ سنت رسول یہی ہے، مگر چونکہ آپ کے سامنے کثیر صحابہ اتنی مشقت اور اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔ واللہ أعلم
(2) باب کے یہ معنیٰ بھی ہو سکتے ہیں: ”قربانی کے جانور ساتھ لے کر جانا“ تو پھر باب کا مقصد یہ ہوگا کہ قربانی کا جانور ساتھ لے جانا افضل ہے بجائے وہاں جا کر خریدنے کے کیونکہ اس میں مشقت بھی زیادہ ہے اور شعائر اللہ کا اظہار بھی ہے۔ سنت رسول یہی ہے، مگر چونکہ آپ کے سامنے کثیر صحابہ اتنی مشقت اور اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2800 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4424 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´دوسروں کی قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنی بعض اونٹنیوں کو نحر کیا اور بعض کو دوسروں نے نحر کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4424]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنی بعض اونٹنیوں کو نحر کیا اور بعض کو دوسروں نے نحر کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4424]
اردو حاشہ: یہ حجۃ الوداع کی بات ہے۔ آپ نے سو اونٹ قربانی کیے تھے۔ ان میں سے تریسٹھ (63) آپ نے اپنے دست مبارک سے نحر کیے اور باقی سینتیس (37) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کا نائب بن کر نحر کیے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4424 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1306 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1306- سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو اونٹوں کی قربانی دی تھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے شریف لائے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قر بانی کے ایک تہائی حصے میں شریک کرلیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے 66 اونٹ خود نحر کیے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ باقی 34 اونٹ قربان کردیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ہر اونٹ کا کچھ حصہ لے کر اسے پکایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ گوشت کھایا اور شوربہ پیا۔ سفیان کہتے ہیں: اہل عرب اس لفظ کا تلفظ یوں کرتے ہیں: «وَحَسَوَا» ۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1306]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قربانی کی زیادہ مقدار کوئی مقرر نہیں ہے، جتنی اللہ تعالیٰ توفیق دے، اتنے ہی جانور ذبح کیے جا سکتے ہیں، ہر انسان کو اپنا جانور خود ذبح کرنا چاہیے، لیکن جانور ذبح کرنے میں اپنا نائب مقرر کرنا بھی درست ہے، اور جن جانوروں کی قربانی کی جائے، ہر ایک سے کچھ کھانا بھی مسنون ہے۔
موجودہ دور میں حاجی حضرات کو قربانی کا گوشت نہیں دیا جاتا، بلکہ ان سے پیسے لے لیے جاتے ہیں، اور ان قربانیوں کا کسی کو علم نہیں ہوتا کہ میرا جانور کس طرح کا ہے، وغیرہ وغیرہ، حاجیوں کو عید الاضحی کے دن بھی بازار سے گوشت خریدنا پڑتا ہے، یہ صورت حال محل نظر ہے، اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ مملکت سعودیہ کی خدمات جلیلہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، آمین، انہوں نے واقعی خادم الحرمین ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔ فجزاهم الله خيرا الجزاء
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قربانی کی زیادہ مقدار کوئی مقرر نہیں ہے، جتنی اللہ تعالیٰ توفیق دے، اتنے ہی جانور ذبح کیے جا سکتے ہیں، ہر انسان کو اپنا جانور خود ذبح کرنا چاہیے، لیکن جانور ذبح کرنے میں اپنا نائب مقرر کرنا بھی درست ہے، اور جن جانوروں کی قربانی کی جائے، ہر ایک سے کچھ کھانا بھی مسنون ہے۔
موجودہ دور میں حاجی حضرات کو قربانی کا گوشت نہیں دیا جاتا، بلکہ ان سے پیسے لے لیے جاتے ہیں، اور ان قربانیوں کا کسی کو علم نہیں ہوتا کہ میرا جانور کس طرح کا ہے، وغیرہ وغیرہ، حاجیوں کو عید الاضحی کے دن بھی بازار سے گوشت خریدنا پڑتا ہے، یہ صورت حال محل نظر ہے، اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ مملکت سعودیہ کی خدمات جلیلہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، آمین، انہوں نے واقعی خادم الحرمین ہونے کا حق ادا کر دیا ہے۔ فجزاهم الله خيرا الجزاء
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1305 سے ماخوذ ہے۔