سنن ابن ماجه
كِتَابُ الْأَضَاحِي— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا يُكْرَهُ أَنْ يُضَحَّى بِهِ باب: کن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے؟
حدیث نمبر: 3145
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا ، يُحَدِّثُ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ ، يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے اور کن کٹے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: لیکن منڈا یعنی جس جانور کی سینگ اگی نہ ہو اس کی قربانی جائز ہے، اسی طرح اگر کان آدھا سے کم کٹا ہو تو امام ابوحنیفہ نے اس کو جائز کہا ہے، لیکن حدیث مطلق ہے، اور حدیث کی اتباع بہتر ہے، اور احمد، ابوداود، حاکم اور بخاری نے تاریخ میں تخریج کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا «مصفرہ» (جس کا کان کاٹا گیا ہو) سے اور «مستاصلہ» (جس کی سینگ ٹوٹی ہو) سے اور «بخقاء» سے (جس کی آنکھ میں نقش ہو) اور «مشعیہ» سے (جو اور بکریوں کے ساتھ چل نہ سکے کمزوری اور لاغری سے) اور «کسیرہ» سے (جس کی ہڈیوں میں مغز نہ رہا ہو)۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4382 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ٹوٹی سینگ والے جانور کی قربانی منع ہے۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے جانور کو ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (راوی قتادہ کہتے ہیں): میں نے اس کا ذکر سعید بن مسیب سے کیا تو انہوں نے کہا: ہاں، جس جانور کا آدھا سینگ یا اس سے زیادہ ٹوٹا ہو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4382]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے جانور کو ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (راوی قتادہ کہتے ہیں): میں نے اس کا ذکر سعید بن مسیب سے کیا تو انہوں نے کہا: ہاں، جس جانور کا آدھا سینگ یا اس سے زیادہ ٹوٹا ہو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4382]
اردو حاشہ: عربی میں لفظ أعَضَب استعمال ہوا ہے۔ حضرت سعید بن مسیب نے اسی لفظ تشریح فرمائی ہے کہ معمولی ٹوٹے ہوئے سینگ کی وجہ سے جانور کو اعضب نہیں کہا جاتا، بلکہ نصف یا اس سے زائد ٹوٹا ہو تب اس کی قربانی منع ہو گی۔ گویا سینگ کی حیثیت کان کی سی نہیں۔ اس میں تھوڑا بہت نقص معاف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4382 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1504 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ٹوٹی سینگ اور پھٹے کان والے جانوروں کی قربانی کا بیان۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کی قربانی کرنے سے منع فرمایا جن کے سینگ ٹوٹے اور کان پھٹے ہوئے ہوں۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: «عضب» (سینگ ٹوٹنے) سے مراد یہ ہے کہ سینگ آدھی یا اس سے زیادہ ٹوٹی ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1504]
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کی قربانی کرنے سے منع فرمایا جن کے سینگ ٹوٹے اور کان پھٹے ہوئے ہوں۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: «عضب» (سینگ ٹوٹنے) سے مراد یہ ہے کہ سینگ آدھی یا اس سے زیادہ ٹوٹی ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى/حدیث: 1504]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کے راوی ’’جری‘‘ لین الحدیث ہیں)
نوٹ:
(اس کے راوی ’’جری‘‘ لین الحدیث ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1504 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2805 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´قربانی میں کون سا جانور مکروہ ہے۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عضباء» (یعنی سینگ ٹوٹے کان کٹے جانور) کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2805]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عضباء» (یعنی سینگ ٹوٹے کان کٹے جانور) کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2805]
فوائد ومسائل:
عضباء یا عضب کے ایک معنی یہی ہیں۔
کہ سینگ کا اندرونی حصہ ٹوٹ گیا ہو۔
اور دوسرے معنی وہ ہیں۔
جو درج ذیل روایت میں ہیں۔
یعنی آدھا سینگ ٹوٹا ہوا ہو یا زیادہ۔
عضباء یا عضب کے ایک معنی یہی ہیں۔
کہ سینگ کا اندرونی حصہ ٹوٹ گیا ہو۔
اور دوسرے معنی وہ ہیں۔
جو درج ذیل روایت میں ہیں۔
یعنی آدھا سینگ ٹوٹا ہوا ہو یا زیادہ۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2805 سے ماخوذ ہے۔