سنن ابن ماجه
كِتَابُ الْأَضَاحِي— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا يُكْرَهُ أَنْ يُضَحَّى بِهِ باب: کن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے؟
حدیث نمبر: 3142
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِمُقَابَلَةٍ ، أَوْ مُدَابَرَةٍ ، أَوْ شَرْقَاءَ ، أَوْ خَرْقَاءَ ، أَوْ جَدْعَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا جس کا کان آگے سے یا پیچھے سے کٹا ہو ، یا وہ پھٹا ہو یا اس میں گول سوراخ ہو ، یا ناک کان اور ہونٹ میں سے کوئی عضو کٹا ہو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4379 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کٹے پھٹے کان والے جانور کی قربانی منع ہے۔`
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامنے اور پیچھے سے کان کٹے ہوئے جانور، اور پھٹے کان والے جانور اور چرے ہوئے کان والے جانور اور ایسے جانور جن کے کان میں سوراخ ہو اور کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4379]
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامنے اور پیچھے سے کان کٹے ہوئے جانور، اور پھٹے کان والے جانور اور چرے ہوئے کان والے جانور اور ایسے جانور جن کے کان میں سوراخ ہو اور کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4379]
اردو حاشہ: ”کوئی عضو کٹا ہوا ہو“ مثلاً ناک، کان یا ہونٹ وغیرہ۔ عربی میں اسے جدعاء کہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4379 سے ماخوذ ہے۔