حدیث نمبر: 3139
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ بِلَالٍ بِنْتُ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِيهَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَجُوزُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ أُضْحِيَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ہلال اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھیڑ کے ایک سالہ بچے کی قربانی جائز ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: جذعہ: بھیڑ کا بچہ جو ایک سال کا ہو جائے، ایک قول یہ ہے کہ جذعہ وہ بچہ ہے جو ایک سال سے کم ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كِتَابُ الْأَضَاحِي / حدیث: 3139
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أم محمد والدة محمد بن أبي يحيي: مقبولة (أي مستورة۔مجھولة الحال) كما في التقريب (7869), والحديث الآتي (الأصل: 3140) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11737 ، ومصباح الزجاجة : 1088 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/368 ) ( ضعیف ) » ( ام محمد بن أبی یحییٰ اور ام بلال دونوں مجہول ہیں ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 65 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´قربانی کے لیے کون سا جانور کافی ہے؟`
ہلال اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھیڑ کے ایک سالہ بچے کی قربانی جائز ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3139]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیتے ہوئے لکھا ہے کہ آئندہ آنے والی حدیث اس سے کفایت کرتی ہے۔ دیکھیے تحقیق وتخریج حدیث ہٰذا۔
علاوہ ازیں دیگر محققین نے اسے حسن لغیرہ قراردیاہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل حجت اور قابل عمل ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 44/632/633)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3139 سے ماخوذ ہے۔