سنن ابن ماجه
كِتَابُ الْأَضَاحِي— کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
بَابُ : عَنْ كَمْ تُجْزِئُ الْبَدَنَةُ وَالْبَقَرَةُ باب: اونٹ اور گائے کی قربانی کتنے لوگوں کی طرف سے کافی ہو گی؟
حدیث نمبر: 3135
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ أَبُو طَاهِرٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ عَنْ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَقَرَةً وَاحِدَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں آل محمد کی طرف سے ایک گائے کی قربانی کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1750 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´گائے بیل کی ہدی کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آل ۱؎ کی طرف سے ایک گائے کی قربانی کی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1750]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آل ۱؎ کی طرف سے ایک گائے کی قربانی کی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1750]
1750. اردو حاشیہ: ➊ اس حدیث میں آل محمد سے مراد نبی ﷺ کی ازواج مطہرات ہیں۔
➋ بیوی بچوں کی طرف سے شوہر قربانی کرے تو جائز ہے۔
➌ ان کی تعداد کتنی ہی ہو سب کی طرف سے ایک قربانی کافی ہوتی ہے۔ جبکہ بچے باپ کے ساتھ رہ رہے ہوں۔
➋ بیوی بچوں کی طرف سے شوہر قربانی کرے تو جائز ہے۔
➌ ان کی تعداد کتنی ہی ہو سب کی طرف سے ایک قربانی کافی ہوتی ہے۔ جبکہ بچے باپ کے ساتھ رہ رہے ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1750 سے ماخوذ ہے۔