حدیث نمبر: 3127
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا عَائِذُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ ؟ ، قَالَ : " سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ " ، قَالُوا : فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ " ، قَالُوا : فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے “ ، لوگوں نے عرض کیا : تو ہم کو اس میں کیا ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی “ لوگوں نے عرض کیا : اور بھیڑ میں اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھیڑ میں ( بھی ) ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كِتَابُ الْأَضَاحِي / حدیث: 3127
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, عائذ اللّٰه المجاشعي: ضعيف (تقريب: 3116), وشيخه أبو داود الأعمي: متروك, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 489
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3687 ، ومصباح الزجاجة : 1084؍ أ ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/368 ) ( ضعیف جدا ) » ( سند میں ابوداود النخعی متروک الحدیث بلکہ متہم بالوضع راوی ہے ، ملاحظہ ہو : المشکاة : 1476 )