حدیث نمبر: 3123
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کو ( قربانی کی ) وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے ، تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ پھٹکے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كِتَابُ الْأَضَاحِي / حدیث: 3123
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 13938 ، ومصباح الزجاجة : 1084 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/321 ، 6/220 ) ( حسن ) » ( سند میں عبد اللہ بن عیاش ضعیف راوی ہیں ، لیکن شاہد کی بناء پر حسن ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´قربانی واجب ہے یا نہیں؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو (قربانی کی) وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے، تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ پھٹکے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3123]
اردو حاشہ:
فوائد  و مسائل: (1)
اس حدیث سے بظاہر قربانی کا وجوب ثابت ہوتا ہے لیکن دوسرے دلائل سے اس کا استحباب واستنان معلوم ہوتا ہےاس لیے محدثین نے ان سارے دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ قربانی سنت مؤکدہ ہے۔
یعنی ایک اہم اور مؤکد حکم ہے۔
فرض نہیں تاہم استطاعت کے باوجود اس سنت مؤکدہ سے گریز کسی طرح بھی صحیح نہیں۔

(2)
قربانی مسلمانوں کی اجتماعیت کا مظہر ہے اور اس سے آپس کے تعلقات بہتر ہوتے ہیں۔

(3)
قربانی نہ کرنے والا مسلمانوں کی خوشیوں میں شریک ہونے کا حق نہیں رکھتا تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے نماز عید پڑھنے کی ضرورت نہیں بلکہ مقصد اسے تنبیہ کرنا ہے تاکہ وہ قربانی ترک نہ کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3123 سے ماخوذ ہے۔

✍️ حافظ زبیر علی زئی
جو قربانی کا استخفاف و توہین کرتے ہوئے استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرے
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من كان له سعة ولم يضحّ فلا يقر بنّ مصلانا»
جس آدمی کے پاس طاقت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ [سنن ابن ماجه: 3123 وسنده حسن، وصححه الحاكم 4/ 232 ووافقه الذهبي ورواه احمد 2 / 321]
اس روایت میں عبداللہ بن عیاش المصری مختلف فیہ راوی ہیں جن پر کبار علماء وغیرہم نے جرح کی اور جمہور نے توثیق کی، تقریباًً پانچ اور چھ کا مقابلہ ہے۔!
روایتِ مذکورہ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص قربانی کا استخفاف و توہین کرتے ہوئے استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرے تو اسے مسلمانوں کی عیدگاہ سے دور رہنا چاہئے یعنی یہ روایت قربانی کے استحباب وسُنیت پر محمول اور منکرینِ حدیث کا رد ہے۔



اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
ماہنامہ الحدیث حضرو، شمارہ 122، صفحہ 17 تا 25
درج بالا اقتباس ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 17 سے ماخوذ ہے۔