حدیث نمبر: 3119
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ حَفْصٍ الْأُبُلِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ حَبِيبٍ الزَّيَّاتِ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مُشَاةً مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ، وَقَالَ : ارْبُطُوا أَوْسَاطَكُمْ بِأُزُرِكُمْ ، وَمَشَى خِلْطَ الْهَرْوَلَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے مدینہ سے مکہ پیدل چل کر حج کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے تہ بند اپنی کمر میں باندھ لو “ ، اور آپ ایسی چال چلے جس میں دوڑ ملی ہوئی تھی ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: کسی حدیث میں یہ ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج میں کہیں دوڑ کر چلے ہوں سوائے دو مقاموں کے ایک تو طواف قدوم کے پہلے تین پھیروں میں، دوسرے صفا اور مروہ میں دو نشانوں کے درمیان۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 3119
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, حمران بن أعين: ضعيف رمي بالرفض (تقريب: 1514), ومن أجله ضعفه البوصيري والصواب معه دون الحاكم والذهبي (442/1), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 488
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4089 ، ومصباح الزجاجة : 1082 ) ( ضعیف ) » ( سند میں حمران بن اعین الکوفی ضعیف ہیں ، آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 2734 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´پیدل حج کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے مدینہ سے مکہ پیدل چل کر حج کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے تہ بند اپنی کمر میں باندھ لو ، اور آپ ایسی چال چلے جس میں دوڑ ملی ہوئی تھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3119]
اردو حاشہ:
مذکورہ روایت ضعیف ہے جبکہ گزشتہ ابواب میں صحیح احادیث میں یہ صراحت موجود ہے کہ رسول اللہﷺ حج کے سفر میں اپنی اونٹنی پر سوار تھے۔
اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی سواریوں پر سفر کیا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3119 سے ماخوذ ہے۔