حدیث نمبر: 3114
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ ، أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مدینہ والوں کو جو کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح گھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے “ ۱؎ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 3114
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 15068 ) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الحج 89 ( 1386 ) ، مسند احمد ( 2/279 ، 309 ، 357 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1386

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مدینہ کی فضیلت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ والوں کو جو کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح گھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3114]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جس طرح مکی حرم کا احترام فرض ہےاسی طرح مدنی حرم کا احترام بھی فرض ہے۔

(3)
حرم کی بے حرمتی کرنے والے پر دنیا میں ہی عذاب آجائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3114 سے ماخوذ ہے۔