سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
. بَابٌ في الْهَدْيِ إِذَا عَطِبَ باب: ہدی کا جانور راستہ میں ہلاک ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3106
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ : وَكَانَ صَاحِبَ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ ؟ ، قَالَ : " انْحَرْهُ وَاغْمِسْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ ، ثُمَّ اضْرِبْ صَفْحَتَهُ ، وَخَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ فَلْيَأْكُلُوهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ناجیہ خزاعی رضی اللہ عنہ ( جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے اونٹ لے جایا کرتے تھے ) کہتے ہیں کہ` میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ہدی کا جو اونٹ تھک کر مرنے کے قریب ہو جائے اسے میں کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کو نحر ( ذبح ) کر ڈالو ، اور اس کی جوتی اسی کے خون میں ڈبو کر اس کے پٹھے میں مار لگا دو ، پھر اس کو چھوڑ دو کہ لوگ اسے کھائیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 904 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
904- سیدنا ناجیہ خزاعی رضی اللہ عنہ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانوروں کے نگران تھے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! جو اونٹ تھک جائے اس کے ساتھ میں کیا طریقہ کار اختیار کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے ذبح کردو! پھر تم اس کے پاؤں کو اس خون میں ڈبو کر اسے اس اونٹ کے پہلو پر لگاؤ پھر اسے لوگوں کے لیے چھوڑدو۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:904]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی جانور مرنے لگے تو اس کو ذبح کر دینا چاہیے تاکہ اس کے گوشت سے لوگ فائدہ اٹھا سکیں، اور یہ عام ہے لیکن جو جانور ہدی کے لیے خاص کیا گیا ہو، اور وہ جانور بیت اللہ کی طرف لے جایا جا رہا ہو، وہ بیماری وغیرہ کی وجہ سے مرنے لگے تو اس کو ذبح کر لینا چاہیے، اس کے پاؤں کو خون لگا دینا چاہیے، اور اس کے پہلو پر خون کا نشان لگا دینا چاہیے۔ اس جانور کے گوشت سے خود کچھ نہیں کھانا چاہیے، لیکن اس محلے اور شہر کے رہنے والے لوگ اس سے کھا سکتے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی جانور مرنے لگے تو اس کو ذبح کر دینا چاہیے تاکہ اس کے گوشت سے لوگ فائدہ اٹھا سکیں، اور یہ عام ہے لیکن جو جانور ہدی کے لیے خاص کیا گیا ہو، اور وہ جانور بیت اللہ کی طرف لے جایا جا رہا ہو، وہ بیماری وغیرہ کی وجہ سے مرنے لگے تو اس کو ذبح کر لینا چاہیے، اس کے پاؤں کو خون لگا دینا چاہیے، اور اس کے پہلو پر خون کا نشان لگا دینا چاہیے۔ اس جانور کے گوشت سے خود کچھ نہیں کھانا چاہیے، لیکن اس محلے اور شہر کے رہنے والے لوگ اس سے کھا سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 903 سے ماخوذ ہے۔