حدیث نمبر: 3102
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى هَدْيَهُ مِنْ قُدَيْدٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی قدید سے خریدی ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: قدید: مکہ اور مدینہ کے درمیان ذوالحلیفہ سے آگے ایک مقام کا نام ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 3102
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد موقوف على ابن عمر والصحيح أن النبي صلى الله عليه وسلم ساق هديه من ذي الحليفة الحج الكبير , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (907), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 487
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الحج 68 ( 907 ) ، ( تحفة الأشراف : 7897 ) ( ضعیف ) » ( اس کی سند ضعیف ہے ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول سے محفوظ و ثابت ہے ، اور صحیح وثابت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی کا جانور ذوالحلیفہ سے ساتھ لیا تھا )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 907

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ہدی کے جانوروں کو میقات کے پرے سے لے جانا۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی قدید سے خریدی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3102]
اردو حاشہ:
فوئاد و مسائل: (1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے خود اپنا قربانی کا جانور مقام قدید سے خریدا تھا۔ دیکھیے: (صحيح البخاري، الحج، باب من اشتري الهدي من الطريق، حديث: 1693)
جبکہ رسول اللہ ﷺ اپنے ہدی کے جانور ذوالحلیفہ سے لائے تھے۔

(2)
قدید ایک جگہ کا نام ہےجو مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان میقات کی حدود سے اندر کی طرف واقع ہے۔ (محمد فواد عبد الباقی حاشیة سنن ابن ماجة)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3102 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 907 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´قربانی کے جانور سے متعلق ایک اور باب۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہدی کا جانور قدید سے خریدا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 907]
اردو حاشہ:
1؎:
قدید مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔

2؎:
یعنی یہ موقوف اثر اُس مرفوع حدیث سے کہ جسے یحیی بن یمان نے ثوری سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے۔

نوٹ:
(سند میں یحییٰ بن یمان اخیر عمر میں مختلط ہو گئے تھے، صحیح بات یہ ہے کہ قدید سے ہدی کا جانور خود ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خریدا تھا جیسا کہ بخاری نے روایت کی ہے (الحج 105 ح1693) یحییٰ بن یمان نے اس کو مرفوع کر دیا ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 907 سے ماخوذ ہے۔