حدیث نمبر: 3098
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَفْلَحَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّدَ ، وَأَشْعَرَ ، وَأَرْسَلَ بِهَا ، وَلَمْ يَجْتَنِبْ مَا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کو قلادہ پہنایا ، اس کا اشعار کیا ، اور اسے ( مکہ ) بھجوایا ، اور ان باتوں سے پرہیز نہیں کیا جن سے محرم پرہیز کرتا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 3098
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/ الحج 106 ( 1696 ) ، 108 ( 1699 ) ، صحیح مسلم/الحج 64 ( 1321 ) ، سنن ابی داود/المناسک 17 ( 1757 ) ، سنن النسائی/الحج 62 ( 2774 ) ، ( تحفة الأشراف : 17433 ) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الحج 15 ( 51 ) ، مسند احمد ( 6/25 ، 36 ، 78 ، 85 ، 191 ، 102 ، 127 ، 174 ، 180 ، 185 ، 191 ، 200 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1757 | سنن نسائي: 2774

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1757 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ہدی بھیج کر خود مقیم رہنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے لیے قلادے بٹے پھر آپ نے انہیں اشعار کیا اور قلادہ ۱؎ پہنایا پھر انہیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور خود مکہ میں مقیم رہے اور کوئی چیز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال تھی آپ پر حرام نہیں ہوئی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1757]
1757. اردو حاشیہ: کوئی شخص حرم کی طرف قربانی بھیجے اور خود نہ جائے تو وہ حلال ہی رہتا ہے۔ احرام کے کوئی احکام اس پر عائد نہیں ہوتے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1757 سے ماخوذ ہے۔