حدیث نمبر: 3092
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ حِمَارَ وَحْشٍ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُفَرِّقَهُ فِي الرِّفَاقِ ، وَهُمْ مُحْرِمُونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک نیل گائے دی ، اور حکم دیا کہ اسے اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیں ، اور وہ سب محرم تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 3092
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: إسناده معلول , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سفيان بن عينة عنعن, والصحيح ما رواه النسائي (183/5 ح 2820) وغيره بغير ھذا اللفظ, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 487
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5006 ، ومصباح الزجاجة : 1073 ) ( ضعیف ) » ( سند میں علت ہے ، اور متن میں غلطی ، صحیح روایت نسائی کی ہے ، ملاحظہ ہو : سنن النسائی : 2218 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´محرم کے لیے شکار نہ کیا گیا ہو تو اس کے کھانے کی رخصت۔`
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک نیل گائے دی، اور حکم دیا کہ اسے اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیں، اور وہ سب محرم تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3092]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے جبکہ معناً صحیح ہےجیسا کہ سنن نسائی کی روایت سے ثابت ہے کہ آپ نے گوشت نہیں کھایا تھا۔ (سنن النسائي، مناسك الحج، باب مايجوز اكله من الصيد حديث: 2819)
لہٰذا جو شکار کسی نے اپنے لیے کیا ہوپھر وہ احرام والے کو دے دے تو احرام کی حالت میں اس کا گوشت کھانا جائز ہے جیساکہ درج ذیل روایت سے بھی یہ مسئلہ ثابت ہے۔

(2)
یہ ہدیہ پیش کرنے والے حضرت بہزی رضی اللہ عنہ تھے۔ (سنن النسائي، مناسك الحج، باب مايجوز اكله من الصيد، حديث: 2820)
 ایک قول کے مطابق ان کا نام حضرت زید بن کعب رضی اللہ عنہ تھا۔ (تقريب التهذيب باب الأنساب)

(3)
یہ واقعہ مقام روحہ پر پیش آیا۔ (سنن نسائی حوالہ مذکورہ بالا)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3092 سے ماخوذ ہے۔