حدیث نمبر: 309
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ :" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبُولَ قَائِمًا " ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَزِيدَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيَّ ، يَقُولُ : قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ : " أَنَا رَأَيْتُهُ يَبُولُ قَاعِدًا " ، قَالَ : الرَّجُلُ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنْهَا ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : وَكَانَ مِنْ شَأْنِ الْعَرَبِ الْبَوْلُ قَائِمًا ، أَلَا تَرَاهُ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ حَسَنَةَ ، يَقُولُ : " قَعَدَ يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ ابوالحسن القطان کہتے ہیں : میں نے ابوعبداللہ محمد بن یزید ( یعنی : ابن ماجہ ) سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے احمد بن عبدالرحمٰن مخزومی سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ سفیان ثوری نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث : «أنا رأيته يبول قاعدا» کے بارے میں کہا کہ : مرد اس بات کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ جانتے ہیں ، ( احمد بن عبدالرحمٰن مخزومی کی سفیان ثوری سے ملاقات نہیں ) ۔ احمد بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں : عربوں کی عادت کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی تھی ، کیا تم اسے عبدالرحمٰن بن حسنہ کی حدیث میں دیکھتے نہیں ہو ؟ اس میں ہے : ” دیکھو ! وہ عورتوں کی طرح بیٹھ کر پیشاب کرتے ہیں “ ۔

وضاحت:
۱؎: رسول اکرم ﷺ کو یہودی کہتے تھے کہ محمد ﷺ تو عورتوں کی طرح بیٹھ کر پیشاب کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 309
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف جدا , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف جدًا, عدي بن الفضل: متروك (تقريب: 4545), والحديث ضعفه البوصيري, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 387
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3113 ، ومصباح الزجاجة : 125 ) ( ضعیف جدًا ) » ( اس سند میں عدی بن الفضل متروک راوی ہیں ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 638 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بیٹھ کر پیشاب کرنے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ۱؎۔ ابوالحسن القطان کہتے ہیں: میں نے ابوعبداللہ محمد بن یزید (یعنی: ابن ماجہ) سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے احمد بن عبدالرحمٰن مخزومی سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ سفیان ثوری نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث: «أنا رأيته يبول قاعدا» کے بارے میں کہا کہ: مرد اس بات کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ جانتے ہیں، (احمد بن عبدالرحمٰن مخزومی کی سفیان ثوری سے ملاقات نہیں)۔ احمد بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: عربوں کی عادت کھڑے ہو کر پیشاب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 309]
اردو حاشہ:
روایت: 308۔ 309 دونوں سنداً ضعیف ہیں اس لیے قابل حجت نہیں اور ان سے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی تاہم نبی ﷺ کا عام معمول بیٹھ کر ہی پیشاب کرنے کا تھا اس لیے ہر مسلمان کا معمول بھی یہی ہونا چاہیے۔
اصل اور اہم مسئلہ پیشاب کے چھینٹوں سے بچنا ہے اس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں کیونکہ اس پر سخت وعید آئی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 309 سے ماخوذ ہے۔