سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ باب: محرم کو کون سا جانور قتل کرنا جائز ہے؟
حدیث نمبر: 3089
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ : الْحَيَّةَ ، وَالْعَقْرَبَ ، وَالسَّبُعَ الْعَادِيَ ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ ، وَالْفَأْرَةَ الْفُوَيْسِقَةَ " ، فَقِيلَ لَهُ : لِمَ قِيلَ لَهَا الْفُوَيْسِقَةُ ؟ ، قَالَ : " لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ لَهَا ، وَقَدْ أَخَذَتِ الْفَتِيلَةَ لِتُحْرِقَ بِهَا الْبَيْتَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” محرم سانپ ، بچھو ، حملہ آور درندے ، کاٹ کھانے والے کتے ، اور فسادی چوہیا کو قتل کر سکتا ہے “ ، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : اسے فسادی کیوں کہا گیا ؟ کہا : اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وجہ سے جاگتے رہے ، وہ بتی لے گئی تھی تاکہ گھر میں آگ لگا دے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 838 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´محرم کون کون سے جانور مار سکتا ہے؟`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” محرم سرکش درندے، کاٹ کھانے والے کتے، چوہا، بچھو، چیل اور کوے مار سکتا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 838]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” محرم سرکش درندے، کاٹ کھانے والے کتے، چوہا، بچھو، چیل اور کوے مار سکتا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 838]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے)
نوٹ:
(سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 838 سے ماخوذ ہے۔