سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا يَدَّهِنُ بِهِ الْمُحْرِمِ باب: محرم کو کس قسم کا تیل استعمال کرنا جائز ہے؟
حدیث نمبر: 3083
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدَّهِنُ رَأْسَهُ بِالزَّيْتِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، غَيْرَ الْمُقَتَّتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں اپنے سر میں زیتون کا تیل لگاتے تھے جو «مقتت» ( خوشبودار ) نہ ہوتا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´محرم کو کس قسم کا تیل استعمال کرنا جائز ہے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں اپنے سر میں زیتون کا تیل لگاتے تھے جو «مقتت» (خوشبودار) نہ ہوتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3083]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں اپنے سر میں زیتون کا تیل لگاتے تھے جو «مقتت» (خوشبودار) نہ ہوتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3083]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت اکثر محققین کے نزدیک سنداً ضعیف ہےتاہم یہی بات صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً ثابت ہے۔ (صحيح البخاري، الحج، باب الطيب عندالإحرام، حديث: 1537)
چنانچہ احرام کی حالت میں ایسا تیل استعمال کیا جاسکتا ہے جس میں خوشبو وغیرہ کی ملاوٹ نہ ہو جبکہ حالت احرام میں خوشبو یا خوشبو والا تیل لگانا منع ہے۔
تاہم احرام باندھنے سے پہلے خوشبو وغیرہ بھی استعمال کی جا سکتی ہے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ انھوں نےرسول اللہﷺ کو احرام باندھنے سے قبل خوشبو لگائی تھی۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: جلد 8 / 400‘402)
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت اکثر محققین کے نزدیک سنداً ضعیف ہےتاہم یہی بات صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً ثابت ہے۔ (صحيح البخاري، الحج، باب الطيب عندالإحرام، حديث: 1537)
چنانچہ احرام کی حالت میں ایسا تیل استعمال کیا جاسکتا ہے جس میں خوشبو وغیرہ کی ملاوٹ نہ ہو جبکہ حالت احرام میں خوشبو یا خوشبو والا تیل لگانا منع ہے۔
تاہم احرام باندھنے سے پہلے خوشبو وغیرہ بھی استعمال کی جا سکتی ہے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ انھوں نےرسول اللہﷺ کو احرام باندھنے سے قبل خوشبو لگائی تھی۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: جلد 8 / 400‘402)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3083 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 962 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´حج سے متعلق ایک اور باب۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں زیتون کا تیل لگاتے تھے اور یہ (تیل) بغیر خوشبو کے ہوتا تھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 962]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں زیتون کا تیل لگاتے تھے اور یہ (تیل) بغیر خوشبو کے ہوتا تھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 962]
اردو حاشہ: 1؎: اس حدیث سے معلوم ہواکہ محرم کے لیے زیتون کا تیل جس میں خوشبوکی ملاوٹ نہ ہولگاناجائزہے، لیکن حدیث ضعیف ہے۔
نوٹ:
(سند میں فرقد سبخی لین الحدیث اورکثیر الخطاء راوی ہیں) (وأخرجہ خ/الحج18(1537) موقوفا علی ابن عمر وہو أصح)
نوٹ:
(سند میں فرقد سبخی لین الحدیث اورکثیر الخطاء راوی ہیں) (وأخرجہ خ/الحج18(1537) موقوفا علی ابن عمر وہو أصح)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 962 سے ماخوذ ہے۔