حدیث نمبر: 3052
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " قَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ لِلنَّاسِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ، قَالَ : لَا حَرَجَ ، ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : لَا حَرَجَ ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ قَبْلَ شَيْءٍ ، إِلَّا قَالَ : لَا حَرَجَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں ذی الحجہ کو منیٰ میں لوگوں ( کو حج کے احکام بتانے ) کے لیے بیٹھے ، تو ایک شخص آپ کے پاس آیا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی حرج نہیں “ ، پھر دوسرا شخص آیا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی حرج نہیں “ ، آپ سے اس دن جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا جسے کسی چیز سے پہلے کر لیا گیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا : ” کوئی حرج نہیں “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: صحیحین میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ کے پاس کھڑے تھے، ایک شخص نے آ کر کہا: میں نے رمی سے پہلے بال منڈا دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمی کر لو کچھ حرج نہیں ، دوسرے نے کہا: میں نے رمی سے پہلے ذبح کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمی کر لو کچھ نہیں ہے ، تیسرے نے کہا: میں نے رمی سے پہلے طواف افاضہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمی کر لو کچھ حرج نہیں ہے ، غرض جس چیز کے متعلق اس دن سوال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب کر لو کچھ حرج نہیں اور اہل حدیث کا عمل انہی حدیثوں پر ہے، ان اعمال کی اگر تقدیم و تاخیر سہو سے ہو جائے تو کچھ نقصان نہیں، نہ دم لازم آئے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب المناسك / حدیث: 3052
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 2398 ، ومصباح الزجاجة : 1059 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/326 ) ( حسن صحیح ) »