سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ قَدَّمَ نُسُكًا قَبْلَ نُسُكٍ باب: مناسک حج کی تقدیم و تاخیر کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " قَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ لِلنَّاسِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ، قَالَ : لَا حَرَجَ ، ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : لَا حَرَجَ ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ قَبْلَ شَيْءٍ ، إِلَّا قَالَ : لَا حَرَجَ " .
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں ذی الحجہ کو منیٰ میں لوگوں ( کو حج کے احکام بتانے ) کے لیے بیٹھے ، تو ایک شخص آپ کے پاس آیا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی حرج نہیں “ ، پھر دوسرا شخص آیا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی حرج نہیں “ ، آپ سے اس دن جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا جسے کسی چیز سے پہلے کر لیا گیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا : ” کوئی حرج نہیں “ ۱؎ ۔