سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الْحَلْقِ باب: حلق (سر منڈانے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 3045
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ ظَاهَرْتَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ وَاحِدَةً ؟ قَالَ : إِنَّهُمْ لَمْ يَشُكُّوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` عرض کیا گیا کہ اللہ کے رسول ! آپ نے بال منڈوانے والوں کے لیے تین بار دعا فرمائی ، اور بال کتروانے والوں کے لیے ایک بار ، اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہوں نے شک نہیں کیا “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بلکہ جس حکم کو اللہ تعالیٰ نے پہلی بار بیان کیا اسی پر عمل کیا، قرآن شریف میں ہے: «محلقين رؤوسكم ومقصرين» (سورة الفتح: 27) تو پہلے حلق کو ذکر فرمایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حلق (سر منڈانے) کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا کہ اللہ کے رسول! آپ نے بال منڈوانے والوں کے لیے تین بار دعا فرمائی، اور بال کتروانے والوں کے لیے ایک بار، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " انہوں نے شک نہیں کیا " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3045]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا کہ اللہ کے رسول! آپ نے بال منڈوانے والوں کے لیے تین بار دعا فرمائی، اور بال کتروانے والوں کے لیے ایک بار، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " انہوں نے شک نہیں کیا " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3045]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔
اور اس پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 5/ 337، 338 وإرواء الغليل للألباني: 4/ 285، 286 وسنن ابن ماجه بتحقيق الدكور بشار عواد رقم: 3045)
بنابریں بال منڈوانے میں چونکہ حکم کی تعمیل کا اظہار زیادہ واضح ہے اور کامل ہے۔
اس کے لیے ان کے لیے تین بار دعا کی گئی۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ نے امام خطابی ؒ سے یہ توجیہ نقل کی ہےکہ عربوں میں بال رکھنے کا رواج تھا اور وہ بال منڈوانے کو عجمیوں کا طریقہ سمجھتے تھے اس لیے سر منڈوانے کو ان کا جی نہیں چاہتا تھا۔
مطلب یہ ہے کہ اس کے باوجود سر منڈوا لینا تعمیل حکم کا بلند درجہ ہے۔
(3)
شک سے مراد تذبذب اور ہچکچاہٹ کا اظہار ہے۔
فوائد ومسائل: (1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔
اور اس پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 5/ 337، 338 وإرواء الغليل للألباني: 4/ 285، 286 وسنن ابن ماجه بتحقيق الدكور بشار عواد رقم: 3045)
بنابریں بال منڈوانے میں چونکہ حکم کی تعمیل کا اظہار زیادہ واضح ہے اور کامل ہے۔
اس کے لیے ان کے لیے تین بار دعا کی گئی۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ نے امام خطابی ؒ سے یہ توجیہ نقل کی ہےکہ عربوں میں بال رکھنے کا رواج تھا اور وہ بال منڈوانے کو عجمیوں کا طریقہ سمجھتے تھے اس لیے سر منڈوانے کو ان کا جی نہیں چاہتا تھا۔
مطلب یہ ہے کہ اس کے باوجود سر منڈوا لینا تعمیل حکم کا بلند درجہ ہے۔
(3)
شک سے مراد تذبذب اور ہچکچاہٹ کا اظہار ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3045 سے ماخوذ ہے۔