سنن ابن ماجه
كتاب المناسك— کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الْوُقُوفِ بِجَمْعٍ باب: مزدلفہ میں ٹھہرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3024
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْحِمْصِيِّ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " غَدَاةَ جَمْعٍ يَا بِلَالُ أَسْكِتِ النَّاسَ أَوْ أَنْصِتِ النَّاسَ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَطَوَّلَ عَلَيْكُمْ فِي جَمْعِكُمْ هَذَا ، فَوَهَبَ مُسِيئَكُمْ لِمُحْسِنِكُمْ ، وَأَعْطَى مُحْسِنَكُمْ مَا سَأَلَ ادْفَعُوا بِاسْمِ اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح کو ان سے فرمایا : ” بلال ! لوگوں کو خاموش کرو “ ، پھر فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تم پر بہت فضل کیا ، تمہارے اس مزدلفہ میں تم میں گنہگار کو نیکوکار کے بدلے بخش دیا ، اور نیکوکار کو وہ دیا جو اس نے مانگا ، اب اللہ کا نام لے کر لوٹ چلو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مزدلفہ میں ٹھہرنے کا بیان۔`
بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح کو ان سے فرمایا: ” بلال! لوگوں کو خاموش کرو “، پھر فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے تم پر بہت فضل کیا، تمہارے اس مزدلفہ میں تم میں گنہگار کو نیکوکار کے بدلے بخش دیا، اور نیکوکار کو وہ دیا جو اس نے مانگا، اب اللہ کا نام لے کر لوٹ چلو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3024]
بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح کو ان سے فرمایا: ” بلال! لوگوں کو خاموش کرو “، پھر فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے تم پر بہت فضل کیا، تمہارے اس مزدلفہ میں تم میں گنہگار کو نیکوکار کے بدلے بخش دیا، اور نیکوکار کو وہ دیا جو اس نے مانگا، اب اللہ کا نام لے کر لوٹ چلو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3024]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے۔
جبکہ بعض دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے۔ (الصحيحة للألباني رقم: 1624)
بنابریں اگر مجمع بڑا ہوتو بات شروع کرنے سے پہلے سامعین کو توجہ دلائی جاسکتی ہےکہ خاموشی سے بات سنیں۔
(2)
مزدلفہ میں اللہ کی طرف سے حاجیوں کو مغفرت کا انعام ملتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے۔
جبکہ بعض دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے۔ (الصحيحة للألباني رقم: 1624)
بنابریں اگر مجمع بڑا ہوتو بات شروع کرنے سے پہلے سامعین کو توجہ دلائی جاسکتی ہےکہ خاموشی سے بات سنیں۔
(2)
مزدلفہ میں اللہ کی طرف سے حاجیوں کو مغفرت کا انعام ملتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3024 سے ماخوذ ہے۔